ٹیسلا کمپنی کے مالک دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک نے ایکس اپنی ہی کمپنی کو فروخت کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایلون مسک نے ایکس اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی کو تینتیس ارب ڈالر میں فروخت کرنے کا اعلان کیا۔
مسک کا مقصد مختلف کمپنیوں کو آپس میں یکجا کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
مسک نے اس اقدام کو بڑی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا،جس میں مختلف کاروباری اداروں جیسے ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا۔مسک نے دوہزار بائیس میں ٹوئٹر کو چوالیس ارب ڈالر میں خریدا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسک کی حمایت میں ٹیسلا کی الیکٹرک گاڑی خرید لی، سرخ رنگ کی چمچماتی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ٹرمپ نے گاڑی کی تعریف کرتے ہوئے کہا بہت خوبصورت ہے، سب کچھ کمپیوٹرزئزڈ ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا وہ ٹیسلا ڈیلر شپ کے خلاف تشدد کو گھریلو دہشت گردی قرار دیں گے۔
”ایکس“ پر یوکرین سے سائبر حملہ، ایلون مسک کا انکشاف
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ٹیسلا کمپنی کے سی ای او مسک بھی تھے، ٹرمپ نے گاڑی کا ٹیسٹ نہیں کیا کیونکہ انہیں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن کہا کہ وہ اسے وائٹ ہاؤس میں چھوڑ دیں گے تاکہ ان کا عملہ اسے چلا سکے۔
واضح رہے ٹرمپ نے الیکٹرک کار فرم ٹیسلا کے حصص میں پندرہ فیصد سے زیادہ کمی کے بعد مسک کی حمایت میں گاری خریدی ہے۔