The news is by your side.

Advertisement

باغیوں نے شامی صدر کی مقبولیت کے بارے میں مغرب سے جھوٹ بولا، برطانوی سیکریٹری خارجہ

لندن: برطانوی شیڈو سیکٹری خارجہ ایملی تھارن بیری نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی باغیوں نے بشار الاسد کی مقبولیت کے بارے میں مغرب سے جھوٹ بولا۔

پراسپیکٹ میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ایملی تھارن بیری نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کی عوامی مقبولیت کو ہمیشہ کم تر سمجھا گیا ہے، باغیوں نے جو کہا مغرب نے یقین کرلیا۔

لیبر پارٹی کی سیکریٹری خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے اس بدقسمت ملک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سب شام سے نکل جائیں کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی شامی عوام کے لیے نہیں لڑ رہا۔

ایملی تھارن کا کہنا تھا کہ اگر باغیوں کی بات درست ہوتی اور بشار الاسد عوام میں انتہائی غیر مقبول ہوتے تو یقیناً وہ برسر اقتدار نہ ہوتے، میرا خیال ہے کہ ملک کے اندر ان کی گہری حمایت پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو سوچی میں روس کی جانب سے امن بات چیت کی بھی حمایت کرنی چاہیے، ہمیں ہر اس کام میں معاونت کرنی چاہیے جو شامی بچوں کے لیے کیا جارہا ہو۔

تھارن بیری نے اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کی گیارہ قراردادوں کو ویٹو کرنے پر روس کی مذمت کرنے سے بھی انکار کردیا، انھوں نے کہا کہ لوگ تو ہمیشہ قراردادوں کو روکتے ہیں، امریکا نے خود کتنی ساری ویٹو کی ہیں، تو یہ تو سیاست ہے۔

شاہی شادی میں ننھی شہزادی شارلٹ دلہن کا لباس زیب تن کریں گی


خیال رہے کہ روس نے شام میں جنگی جرائم کے خلاف ایک عالمی تحقیقاتی ٹیم کے منصوبے کو ویٹو کردیا تھا، جس کے بعد امریکا اور اتحادی ممالک نے روس کی شدید مذمت کی تھی۔

تھارن بیری کی جانب سے شامی اور روسی صدر کی حمایت میں بولنے کے بعد ان کے خلاف غصے کی ایک لہر پیدا ہوگئی ہے، برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کمپین مینجر نے بھی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ اسد ریاست ایک قید خانہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ مجھے چاہو یا مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں