دبئی، ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک، مالکان کو سخت سزاؤں کا سامنا discrimination
The news is by your side.

Advertisement

یو اے ای، ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک پر مالکان کو سخت سزا کا حکم

دبئی : متحدہ عرب امارات میں ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے پر مالکان کو 10 سال قید اور دو ملین درہم تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے حصول کے لیے آنے والے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے والی کمپنیوں کے مالکان پرسخت سزائیں بھی عائد کی جا سکیں گی۔

خیلج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے وکیل شیراز سیٹھی نے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کے حوالے سے نئے قوانین کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امتیاز سلوک برتنے والی کمپنیوں کے مالکان پر 10 سال تک قید اور دو ملین درہم جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ کمپنیوں کی جانب سے ایسے اشتہارات دیئے جاتے ہیں جن میں کسی خاص مذہب، قوم یا ملک کے باشندوں کو ہی درخواست دینے کا کہا جاتا ہے جو کہ دیگر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

شیراز سیٹھی نے کہا کہ میں نے دبئی اور ابوظہبی میں موجود کمپنیوں کے مالکان کو مشورہ دیا ہے کہ نئی ملازموں کی بھرتی کے وقت اشتہار دینے، انٹرویو کرنے اور ملازمت دینے کے بعد امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں دنیا بھر سے لوگ ملازمتوں کے حصول کے لیے آتے ہیں تاہم کچھ کمپنیوں میں مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امتیازی سلوک کی شکایتیں عام ہوتی جارہی تھیں جس پر مقامی حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 2015 میں قانون سازی کی۔

گو کہ اس امتیازی قانون کے تحت ابھی تک کوئی قابل ذکر مقدمہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس سے کمپنی مالکان کی جانب سے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناروا رویے میں کمی آئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں