The news is by your side.

توانائی بحران: کیا دنیا پھر سے جوہری ذرائع استعمال کرے گی؟

دنیا بھر میں توانائی کے بحران نے متعدد ممالک کو مجبور کردیا کہ وہ توانائی پیدا کرنے کے لیے دوبارہ جوہری ذرائع استعمال کریں، اس حوالے سے مختلف حلقوں میں منقسم آرا پائی جاتی ہیں۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافے اور موسمیاتی بحران کے سبب تباہی کے پیش نظر دنیا بھر میں کئی ممالک جوہری توانائی میں دلچسپی اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جاپان میں 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد جوہری توانائی میں سرمایہ کاری میں کمی آئی تھی (جو 1986 میں چرنوبل کے بعد دنیا کا بدترین جوہری حادثہ تھا) کیونکہ اس کی حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے اور حکومتیں خوفزدہ ہو گئی تھیں۔

تاہم فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد توانائی کی فراہمی میں کمی اور یورپ کی جانب سے روس کے تیل اور گیس پر انحصار میں کمی کی کوششوں کے بعد اب یہ رجحان واپس جوہری توانائی کے حق میں پلٹ رہا ہے۔

حکومتوں کو گیس اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور قلیل وسائل کی وجہ سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے جن کی وجہ سے رواں سال موسم سرما میں بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چند ماہرین کا اب بھی خیال ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جوہری توانائی کو ایک آپشن کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیئے، لیکن دیگر کا کہنا ہے کہ بہت سارے بحرانوں کے پیش نظر اسے دنیا کے توانائی کے مرکب کا حصہ رہنا چاہیئے۔

جوہری توانائی پر نظر ثانی کرنے والے ممالک میں سے ایک جاپان ہے جہاں 2011 کے حادثے کے سبب حفاظتی خدشات کے باعث بہت سے جوہری ری ایکٹر معطل کر دیے گئے تھے۔

رواں ہفتے جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا نے ملک کی جوہری توانائی کی صنعت کو بحال کرنے اور نئے ایٹمی پلانٹس کی تعمیر پر زور دیا۔ جوہری توانائی سے دور ہونے کے خواہاں دیگر ممالک نے بھی ان منصوبوں کو فی الحال مختصر مدت کے لیے ترک کر دیا ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے ایک ماہ سے بھی کم وقت کے بعد بیلجیئم نے 2025 میں جوہری توانائی کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے کو ایک دہائی تک مؤخر کردیا۔

اس وقت 32 ممالک میں استعمال ہونے والی جوہری توانائی دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا 10 فیصد فراہم کرتی ہے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 2011 کی تباہی کے بعد پہلی بار ستمبر میں اس حوالے سے اپنے اندازوں میں اضافہ کیا۔

آئی اے ای اے کی جانب سے اب توقع کی جارہی ہے کہ سازگار منظر نامے کے مطابق 2050 تک موجودہ جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت دگنی ہوجائے گی۔

منقسم آرا

بجلی کی طلب میں اضافے کے پیش نظر کئی ممالک نے کوئلے کے متبادل کے طور پر جوہری انفرا اسٹرکچر تیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس میں چین بھی شامل ہے جس کے پاس پہلے ہی سب سے زیادہ ری ایکٹر موجود ہیں، نیز جمہوریہ چیک، بھارت اور پولینڈ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

اسی طرح برطانیہ، فرانس اور نیدر لینڈز بھی یہی عزائم رکھتے ہیں، حتیٰ کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا سرمایہ کاری کا منصوبہ اس شعبے کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ جوہری توانائی کا استعمال معاشرتی ترجیحات کی وجہ سے محدود ہوسکتا ہے کیونکہ تباہ کن حادثات کے خطرے اور تابکار فضلہ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے حل طلب مسئلے کی وجہ سے اس پر رائے منقسم ہے۔

نیوزی لینڈ سمیت چند ممالک جوہری توانائی کی مخالفت کرتے ہیں اور یورپی یونین میں بھی اس معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی ہے کہ اسے گرین انرجی کے طور پر شمار کیا جانا چاہیئے یا نہیں۔

گزشتہ ماہ یورپی پارلیمنٹ نے ایک متنازع تجویز کی منظوری دی تھی جس میں گیس اور جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کو پائیدار مالیاتی لیبل دیا گیا۔

نیوکلیئر انفرااسٹرکچر کے حوالے سے دیگر مسائل بھی موجود ہیں جس میں لاگت اور تاخیر پر سختی سے قابو پاتے ہوئے نئے ری ایکٹر بنانے کی صلاحیت شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں