The news is by your side.

Advertisement

جماعت اسلامی دھرنا ‘اتوار کو پورا پاکستان کراچی سے اظہار یکجہتی کریگا’‏

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کراچی کو روشنیوں کا شہر نہیں بنائیں ‏گے ہماری تحریک جاری رہے گی،کراچی سے چترال تک پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ اہل کراچی کے حق کے لیے ‏گھروں سے نکلیں، اتوار9جنوری کو پورے ملک میں کراچی کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت سندھ اسمبلی کے باہر کالے بلدیاتی قانون کے خلاف ‏مسلسل دھرنے کے آٹھویں روز جمعہ کی شب شرکاء دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی کی عظیم الشان جدوجہد اور سخت سردی و بارش کے باوجود ‏مسلسل اور طویل دھرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،آج کا دھرنا جماعت اسلامی کے لیے نہیں بلکہ کراچی ‏کے محروم و مظلوم عوام کے لیے ہے،تین کروڑ عوام پر مشتمل شہر کے عوام کی نہ سننا سندھ کے عوام کے ساتھ ‏ظلم اور نصف آبادی کو اس کے حق سے محروم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ذوالفقار شہر ضرور آباد کریں لیکن اس سے پہلے اندرون سندھ سمیت کراچی شہر کو ‏سنواردو، دنیا میں 17بڑے شہر سمندر کے ساحلوں پر آباد ہیں،کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، ساڑھے تین کروڑ ‏ساحل سمندر کے کنارے رہنے والے شہری ہیں،جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی شہرکی خدمت کی اور آج بھی ‏اقتدارمیں نہ ہونے کے باوجود خدمت کررہی ہے، سابق جنرل پرویز مشرف بھی جماعت اسلامی کی خدمات پر ‏اعتراف کرتے ہیں جب ہم صاف پانی،سڑکوں کی تعمیر،کالجز،اور اسپتالوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو عوام کے لیے ‏کرتے ہیں،عوام کا تعلق تمام سیاسی پارٹیوں سے ہیں کسی ایک پارٹی سے نہیں، اگر کراچی ترقی کرے گا تو ہر ‏سیاسی پارٹی کا ورکر کامیاب ہوگا۔

سراج الحق نے کہا کہ انسان مریخ جارہا ہے اور ہمارے شہر میں گٹر اور پینے کا پانی ایک ہی پائپ لائن سے ‏گزررہا ہے،پیپلزپارٹی نے بلدیاتی اداروں اورمیئر کے تمام اختیارات غصب کر کے وزیر اعلیٰ کو دیے ہیں، ہم پوچھنا ‏چاہتے ہیں کہ آپ کو مزید کتنے اختیارات چاہیئے، ایک طویل عرصے سے پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ‏ہے،پیپلزپارٹی بتائے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد، سکھر،لاڑکانہ، جام شوروسمیت دیگر شہروں میں ترقی کیوں نہیں ‏ہوئی، پیپلزپارٹی نے کرپشن اور لوٹ مار کے سواکوئی ترقی نہیں کی،پیپلزپارٹی نے کراچی اور سندھ کی ڈسپنریاں ‏کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے کرپشن کے اڈے بنائے ہیں،انگریز کے زمانے میں سکھر اور کوٹری بیراج بنا تھا،آج ‏تک سندھ حکومت نے ایک بھی پروجیکٹ نہیں بنایا،وی آئی پی،ظالم جاگیردار طبقہ پاکستان کے آئین و قانون کو ‏نہیں مانتے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی آمدنی میں عوام نے تو ٹیکس دیا لیکن جاگیرداروں،وڈیروں اور سرمایہ داروں نے ٹیکس ‏نہیں دیا،پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے والوں نے سود کا نظام نافذ کیا ہے،جو وکلاء سودی نظام کے ‏خلاف دلائل دیتے تھے آج وہی وکلاء سود کی حمایت میں دلائل دیتے ہیں، سودی نظام کے ساتھ پاکستان کسی ‏صورت ترقی نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تو ہم پاکستان سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے، سودی نظام ‏اللہ کے خلاف اعلان جنگ ہے سودی نظام اور ریاست دینہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،عمران خان پہلے تو صرف ‏لاکھ دو لاکھ روپے ٹیکس دیتے تھے اس سال انہوں نے 98لاکھ ٹیکس دیا ہے وہ عوام کو بتاسکتے ہیں کہ یہ اتنی ‏آمدنی کہاں سے ہوگئی یا پھر کوئی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں مدینہ مسجد کے نام سے ‏قائم اللہ کے گھر گرانے کی بات کی جارہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں مسجد قائم کی،مسجد بنانا اور ‏حفاظت کرنا ریاست کا کام ہے اور ہمارے معاشرے کا اہم مقام ہے،ہم معزز جج سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد ‏گرانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اگر کوئی سوموٹو ایکشن لینا ہے تو پنڈورا اور پنامہ لیکس میں نام آنے والوں ‏کے خلاف کارروائی کرے جس میں تمام حکمران پارٹیوں کے لوگ شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں