The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کا ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے معاہدہ

ریاض: سعودی عرب نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے ایک برطانوی کمپنی سے معاہدہ کرلیا، بجلی اور ہائیڈروجن پر چلنے والی گاڑیاں، جہاز اور بحری تیار کیے جائیں گے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق ریڈ سی ڈویلپمنٹ کمپنی نے منصوبے میں مناسب اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ ذرائع کے اسٹینڈرڈ کا تعین کرنے کے لیے عالمی انجینیئرنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

برطانوی کمپنی 28 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل منصوبے کے لیے بری، بحری اور فضائی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماحول دوست لائحہ عمل پیش کرے گی۔

بحیرہ احمر منصوبے کا جزوی افتتاح 2022 میں ہوگا جبکہ اس کی تکمیل 2030 میں متوقع ہے۔

برطانوی کمپنی منصوبے کے لیے گاڑیوں کے علاوہ، جہاز، بحری جہاز اور ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کا خاکہ پیش کرے گی جو بجلی اور ہائیڈروجن پر چلنے والے ہوں گے۔

ریڈ سی کمپنی کے سربراہ جون باغانو نے کہا ہے کہ ہمارا منصوبہ تجدید پذیر ہے جس میں ماحول دوست لوازمات کا استعمال کیا جاتا ہے، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ماحول دوست خوبصورتی کو برقرار رکھ کر اسے آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی کمپنی منصوبے میں بجلی اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کے اسٹیشن کا بھی تعین کرے گی جو منصوبے کی روح کے مطابق ہوں گے اور جن سے تجدید پذیر توانائی کا استعمال یقینی ہوگا۔

یہ معاہدہ ریڈ سی کمپنی کا ایک اور کارنامہ ہے جس میں تجدید پذیر توانائی کو استعمال کرتے ہوئے منصوبے میں ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، ان میں الیکٹرانک بائک، گالف کار، چھوٹے اور بڑے ٹرک، بسیں، بحری جہاز، ہیلی کاپٹر، لانچ، ایئرپورٹ ٹیکسی یہاں تک کہ سیاحتی بسوں کا بھی استعمال شامل ہوگا۔

دوسری طرف برطانوی کمپنی کے مشرق وسطیٰ میں سربراہ کریس سیمور نے کہا ہے کہ ہم اپنے تجارتی منصوبوں میں تجدید پذیر توانائی اور ماحول دوست ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم معاشرتی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے منصوبے تیار کرتے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے ریڈ سی کمپنی کے ساتھ کام کا معیار تیار کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ دنیا کے اس بہترین اور نمایاں منصوبے میں ہم تجدید پذیر اور ماحول دوست توانائی کو استعمال کرتے ہوئے اپنا حصہ ڈالیں۔

معاہدے کے مطابق برطانوی کمپنی صاف، تجدید پذیر اور ماحول دوست توانائی کا استعمال کرے گی اور شمسی توانائی اور پن چکیوں سے پیدا ہونے والی صاف ستھری بجلی استعمال ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں