ماحولیاتی تحفظ کے لیے گزشتہ حکومتوں کے اقدامات -
The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی تحفظ کے لیے گزشتہ حکومتوں کے اقدامات

ملک بھر کی وفاقی و صوبائی حکومتیں تحلیل ہوچکی ہیں اور انتخابات کا وقت قریب آتا جارہا ہے۔ یہ وقت گزشتہ حکومتوں سے سبق سیکھنے اور نئی حکومتوں سے بہتری کی توقعات وابستہ کرنے کا ہے۔

پاکستان دنیا بھر میں رونما ہونے والے موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے نقصانات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے اور ان نقصانات میں اضافہ متوقع ہے۔

چنانچہ اگر توقع رکھی جائے کہ کلائمٹ چینج اور ماحولیات تمام حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

آج ہم نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے اس سنگین مسئلے کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا اور اس کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ
صوبہ بلوچستان
صوبہ پنجاب
صوبہ سندھ


صوبہ خیبر پختونخواہ

ماحولیات کے شعبے میں اس وقت صوبہ خیبر پختونخواہ بلاشبہ سب سے آگے نظر آتا ہے۔ پختونخواہ میں شروع کیا جانے والا ایک ارب درختوں کا منصوبہ یعنی بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کامیابی سے اپنی تکمیل کی جانب پہنچ چکا ہے اور اس کی کامیابی کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جارہا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہےکہ دنیا کو کلائمٹ چینج کے نقصانات میں کسی حد تک کمی کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر شجر کاری کی ضرورت ہے۔

کلائمٹ چینج کی سب سے بڑی وجہ صنعتوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں اور خطرناک گیسیں ہے جو زمین کی فضا میں موجود ہے۔ یہ گیسیں زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں یوں دنیا بھر کا موسم گرم ہورہا ہے۔

یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں قائم اوزون کی حفاظتی تہہ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں جس سے سورج کی شعاعیں زیادہ مقدار میں زمین پر آرہی ہیں، گو کہ اوزون کی تباہی کی شرح کم ہے۔

اس کا آسان حل گیسیں خارج کرنے والے ذرائع میں کمی کے ساتھ ساتھ بے تحاشہ شجر کاری ہے۔ جیسے کہ ہم جانتے ہیں درخت کاربن گیس کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔ وسیع و عریض درختوں کے گھنے جنگل کو قدرتی ’سنک‘ کہا جاتا ہے جو اپنے آس پاس کی ساری کاربن چوس لیتے ہیں۔

ایسے میں بلین ٹری سونامی پروجیکٹ وقت کی اہم ضرورت تھا اور خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہورہا ہے۔

بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر محمد طہماسپ اس منصوبے کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ مقامی آبادی کی شرکت کو قرار دیتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اتنے بڑے پروجیکٹ کے لیے ہزاروں افراد کی ضرورت تھی جنہیں ملازمتیں دینا ناممکن تھا۔ ایسے میں واحد حل مقامی افراد کی شرکت تھی اور اسی سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا تھا۔

محمد طہماسپ نے بتایا کہ پورے منصوبے میں صرف 20 فیصد شجر کاری حکومت کی طرف سے تھی، باقی 80 فیصد کاوشیں نجی طور پر کی گئیں۔

اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد، کمیونٹیز اور پرائیوٹ اداروں سے معاہدے کیے گئے جس کے تحت انہیں رقم دی گئی۔ معاہدے میں نہ صرف پودے لگانا بلکہ ان کی دیکھ بھال کر کے ایک مخصوص جسامت تک پہنچانا بھی شامل تھا اور اس کے بعد ہی انہیں رقم دی جانی تھی۔

تمام متعلقہ افراد کو پہلی قسط دینے کے کچھ عرصے بعد ان کے لگائے گئے پودوں کا معائنہ کیا گیا، دیکھا گیا کہ آیا ان کی صحیح دیکھ بھال کی جارہی ہے یا نہیں، یہ دیکھنے کے بعد رقم کی دوسری قسط جاری کی گئی۔

اس کے ایک سال بعد جب معاہدے میں پودے کو ایک مخصوص سائز تک پہنچانے کی شق شامل تھی، ایک بار پھر پودوں کا جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد رقم کی تیسری قسط جاری کی گئی۔

محمد طہماسپ نے بتایا کہ خواتین کو بھی شامل کیا گیا تھا اور انہوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں شرکت کی۔ پختونخواہ حکومت نے منصوبے میں پرانے تباہ شدہ جنگلات کو بھی بحال کرنے کا ہدف رکھا تھا جسے کامیابی سے مکمل کیا گیا۔

اس ضمن میں پختونخواہ حکومت نے عالمی معاہدے ’بون چیلنج‘ کو پورا کرتے ہوئے 35 لاکھ ایکڑ زمین پر جنگلات بحال کیے۔

بون چیلنج کے تحت سنہ 2020 تک دنیا بھر کے تباہ شدہ جنگلات کے 15 کروڑ ایکڑ کے رقبے کو بحال کرنا تھا۔

پاکستان میں ہر نئی آنے والی حکومت نئے منصوبے شروع کرتی ہے جن پر اس حکومت کے جاتے ہی کام بند ہوجاتا ہے اور یوں وہ منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ پختونخواہ میں اگر اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی نہ ہوئی جس نے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا تو ان ایک ارب پودوں کا کیا ہوگا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد طہماسپ نے بتایا کہ یہ خیال شروع سے سب کے ذہن میں تھا۔ ’یہ کسی سڑک کا منصوبہ نہیں جو کسی ایک حکومت کے دور میں شروع ہو، اور پھر کئی سالوں کے بعد وہی حکومت دوبارہ آئے تو اس منصوبے کو مکمل کرے، یہ تو پودے ہیں جو چند دن بھی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مر جائیں گے‘۔

محمد طہماسپ نے بتایا کہ پختونخواہ حکومت کی کوششوں سے منصوبہ بندی کمیشن سنہ 2020 تک اس منصوبے کی منظوری دے چکا ہے جس کے بعد کوئی بھی حکومت آئے، وہ بجٹ میں اس منصوبے کے لیے رقم رکھنے کی پابند ہوگی۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے پر کامیاب عملدر آمد کے بعد خیبر پختونخواہ پاکستان کا واحد صوبہ بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر شجر کاری کے ذریعے 35 لاکھ ایکڑ جنگلات کو بحال کیا گیا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم نے بھی منصوبے کو ملک کی سب سے بڑی ماحول دوست سرمایہ کاری قرار دیا تھا۔

چند دن قبل قومی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹمو سفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اسے کامیاب قرار دیا تھا۔


صوبہ بلوچستان

بلوچستان کی ایجنسی برائے تحفظ ماحول کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن ریٹائرڈ طارق زہری کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے سب سے زیادہ کام صوبہ بلوچستان نے کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جب صوبوں کو اختیار دیا گیا کہ اپنے قوانین بنائیں تو سب سے پہلے بلوچستان نے اپنا ماحولیاتی قانون بنایا۔

ان کے دعوے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بقول ان کے سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان عبد المالک بلوچ اور ثنا اللہ زہری بظاہر تو سیاستدان ہیں، تاہم وہ ماحول دوست شخصیات بھی ہیں۔

سنہ 2016 میں جب پیرس معاہدہ ہوا اور معاہدے کے تحت 195 ممالک کو ماحول دوست اقدامات کرنے کا پابند بنایا گیا تب پاکستان بھی اس معاہدے کا دستخط کنندہ بنا۔ طارق زہری نے بتایا کہ معاہدے کے بعد اس سے نکلنے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ اس شعبے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ بلوچستان میں اس وقت ماحولیات کی وزارت، امور نوجوان اور کھیل کے ساتھ منسلک تھی تاہم اس کے بعد پھر اسے علیحدہ کردیا گیا۔

زیارت میں واقع صنوبر کے جنگلات

طارق زہری نے بتایا کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران بلوچستان میں ماحولیات کا ٹریبونل بنایا گیا، ماحولیاتی تحفظ کے لیے نئے قوانین بنائے گئے۔ ان کے مطابق قوانین بنانے کے بعد جتنا ان پر عملدر آمد کیا گیا اس میں گزشتہ برس 3 گنا زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ برس پلاسٹک کی تھیلیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

طارق زہری کے مطابق بلوچستان اس وقت تلف ہوجانے والے یعنی بائیو ڈی گریڈ ایبل بیگز بنا رہا ہے جس کے 4 پلانٹس کوئٹہ میں لگائے گئے ہیں۔ یہ پلانٹس پورے بلوچستان کو یہ بیگز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بلوچستان اس وقت پلاسٹک کے حوالے سے نتیجہ خیز اقدامات کرنے کے ساتھ نئی نسل میں پلاسٹک کے خلاف شعور بھی بیدار کر رہا ہے۔

طارق زہری کے مطابق چند روز قبل کوئٹہ میں 10 ہزار طلبہ و طالبات نے پلاسٹک کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے ایک واک کی اور اس دوران پلاسٹک کا کچرا بھی سمیٹا۔

اس سے قبل طلبا نے کوئٹہ کی ہنہ جھیل کی صفائی بھی کی۔

ہنہ جھیل

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ماحولیاتی تجزیہ کاری (انوائرنمنٹ امپکٹ اسسمنٹ) بھی کیا جارہا ہے۔

شجر کاری کے حوالے سے طارق زہری کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی صنعت یا فیکٹری لگانے کا منصوبہ منظوری کے لیے بھجوایا جاتا ہے تو اس کے لیے شرط رکھ دی جاتی ہے کہ مذکورہ فیکٹری کو پودے لگانے کی صورت میں نو آبجیکشن سرٹیفکٹ (این او سی) دیا جائے گا۔

مذکورہ صنعت کے لیے پودوں کی تعداد لاکھوں میں رکھی جاتی ہے جن کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی انہی کی ہوتی ہے۔ ’اس طرح سے تقریباً 70 سے 80 لاکھ پودے لگانے کی ذمہ داری بلوچستان کی مختلف صنعتوں کے پاس ہے‘۔

طارق زہری نے بتایا کہ بلوچستان میں اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ یہ بھٹے نہایت آلودہ اور زہریلا دھواں خارج کرتے ہیں جو ماحول اور انسانی صحت کے لیے بے حد خطرناک ہوتی ہے۔

زگ زیگ ٹیکنالوجی کے باعث اس دھوئیں کے اخراج میں 40 فیصد کمی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں ایک اور منصوبہ بہت جلد شروع کیا جانے والا ہے جس کے تحت وہ پودے جو عام پودوں کی نسبت زیادہ آکسیجن خارج کرتے ہیں، ایسے مقامات پر لگائے جائیں گے جہاں ہوا کا معیار بہت زیادہ خراب ہے۔

طارق زہری کے مطابق بلوچستان نے اپنی کلائمٹ چینج پالیسی پر بھی کام شروع کردیا ہے جو بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔ اس پالیسی کا فوکس خواتین پر رکھا گیا ہے۔

’کلائمٹ چینج سے سب سے زیادہ خطرے میں خواتین ہوتی ہیں، جب بھی سیلاب آتا ہے تو خواتین پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں گھر کا سامان بھی بچانا ہے، بچوں کو بھی بچانا ہے اور اپنے آپ کو بھی بچانا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھی کسی منصوبے میں خواتین کو شامل کیا گیا تو اس منصوبے نے بہترین نتائج دیے۔ ’نئی نسل کا شعور و آگاہی ماؤں سے مشروط ہے۔ ماؤں کو آگاہی ہوگی تو وہ اپنے بچوں کو بھی تحفظ ماحول سکھا سکیں گی‘۔


صوبہ پنجاب

صوبہ پنجاب میں تحفظ ماحولیات کے لیے ہونے والے اقدامات کے بارے میں ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طاہر رشید نے گفتگو کی۔

ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی صوبائی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والا ادارہ ہے۔

طاہر رشید نے بتایا کہ پنجاب اپنی کلائمٹ چینج پالیسی تیار کرچکا ہے جو منظوری کی منتظر ہے۔

گزشتہ 2 برس میں پنجاب کو زہریلی دھند یعنی اسموگ نے بھی بہت متاثر کیا جس کے بعد اسموگ پالیسی بھی بنائی جاچکی ہے، علاوہ ازیں وائلڈ لائف پالیسی بھی تشکیل کے مراحل میں ہے۔

پنجاب میں چھانگا مانگا کے جنگلات

طاہر رشید نے بتایا کہ پنجاب میں سب سے بڑا کام گراؤنڈ واٹر ایکٹ کی تیاری ہے جس کے بعد زمینی پانی کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں گے۔

گراؤنڈ واٹر ایکٹ کی تیاری کرنے والا پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے۔

ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی ایک پروگرام کے تحت 1 لاکھ 34 ہزار 9 سو 95 ایکڑ زمین جزوی طور پر نجی ملکیت میں دے رہی ہے تاکہ ان پر شجر کاری کر کے پنجاب میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ کیا جاسکے۔

اس زمین پر 4 کروڑ درخت لگائے جائیں گے۔

صوبہ پنجاب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے شروع کیے ہوئے گرین پاکستان پروگرام میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں حکومت پنجاب پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال کو کم کرنے اور ان کی جگہ زمین میں تلف ہوجانے والے یعنی بائیو ڈی گریڈ ایبل بیگز کی تیاری پر بھی کام کر رہی ہے جبکہ اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا کام شروع کیا جاچکا ہے۔


صوبہ سندھ

گزشتہ کچھ عرصے میں تحفظ ماحول کے لیے صوبہ سندھ نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

اس بارے میں ایجنسی برائے تحفظ ماحول (ای پی اے) کے ڈائریکٹر وقار حسین نے بتایا کہ وسائل کی کمی کے باوجود ادارے نے اپنے طور پر بھرپور اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران 500 سے زائد ترقیاتی منصوبے منظوری کے لیے پیش کیے گئے جنہیں اس شرط پر منظوری دی گئی کہ وہ تحفظ ماحول کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ان منصوبوں کے مالکان اور منتظمین کو پابند کیا گیا کہ وہ مخصوص تعداد میں شجر کاری کریں۔

کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع تیمر کے جنگلات

علاوہ ازیں بڑی صنعتوں کو کہا گیا کہ وہ اپنے استعمال شدہ پانی کو براہ راست سمندر یا دریاؤں، نہروں میں پھینکنے کے بجائے ٹریٹ منٹ پلانٹس لگائیں تاکہ پانی کی زہر ناکی اور اس کے نقصان کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔

وقار حسین کا کہنا تھا کہ صوبے میں پہلے سے موجود تحفظ ماحولیات ایکٹ میں نئی شقیں شامل کی گئیں اور ان پر سختی سے عملدر آمد بھی شروع کیا گیا۔

اس سلسلے میں تحفظ ماحول کے قوانین کی خلاف ورزی پر کئی صنعتوں اور اداروں پر جرمانے عائد کیے گئے۔ سرکاری محکمے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہے اور ان کی خلاف ورزیوں پر بھی جرمانے لگائے گئے۔

وقار حسین کے مطابق ان میں ڈی ایم سی ایسٹ کورنگی، ڈی ایم سی ایسٹ سینٹرل، کراچی واٹر بورڈ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ شامل تھے جبکہ کئی سرکاری اسپتالوں پر بھی جرمانے عائد کیے گئے۔

ان کے مطابق اب تک سرکاری و نجی اداروں کو ملا کر کل 1 کروڑ 45 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، تاہم ان کی ریکوری نہ ہوسکی کیونکہ اس کا اختیار ایجنسی کے پاس نہیں۔ ’جرمانوں کی ادائیگی کی شرح صرف 1 فیصد ہے‘۔

صوبہ بلوچستان کی طرح رواں برس صوبہ سندھ نے بھی پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی عائد کی ہے۔ وقار حسین کے مطابق تلف ہوجانے والے یعنی بائیو ڈی گریڈ ایبل بیگز کی تیاری کا کام بھی جاری ہے اور اب تک کئی بڑے اسٹورز کو یہ بیگز فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ای پی اے نے محکمہ جنگلات کی مدد کے بغیر کراچی کے ساحلی علاقوں میں 25 ہزار ایکڑ پر تیمر کے درخت لگائے ہیں۔ اسی طرح صحرائے تھر میں بھی بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: سمندری طوفانوں کے راستے میں مزاحم تیمر

تھر میں سرگرم عمل اینگرو کمپنی جو توانائی بنانے کے لیے کوئلے کی ڈرلنگ میں مصروف ہے، ای پی اے کی ہدایات پر کٹنے والے ایک درخت کی جگہ 5 سے 10 ہودے لگا رہی ہے۔

ان درختوں کی دیکھ بھال فی الحال اس کمپنی کے ہی ذمے ہے کیونکہ ابھی کچھ عرصہ اس کمپنی کو تھر میں ہی قیام کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ درخت مقامی افراد کی ذمہ داری ہوں گے اور اس سلسلے میں ای پی اے ان کی معاونت کرے گا۔

ان کے مطابق تھر میں اگلے ایک سے 2 برسوں میں 10 لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ ہے۔

وقار حسین نے بتایا کہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی ہے۔ ای پی اے کے پورے سندھ میں دفاتر نہیں ہیں بلکہ صرف چند ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں دفاتر موجود ہیں جو محدود وسائل میں پھرپور خدمات انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں