ترک صدر روس پہنچ گئے، عالمی سیاست میں بڑی سیاسی تبدیلی -
The news is by your side.

Advertisement

ترک صدر روس پہنچ گئے، عالمی سیاست میں بڑی سیاسی تبدیلی

سینٹ پیٹرز برگ: ترک صدر رجب طیب اردگان پہلی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اور امریکا و یورپی یونین سے خراب تعلقات کے باوجود روس پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب اردگان ناکام فوجی بغاوت کے بعد پہلے غیر ملکی دورے پر روس پہنچے ہیں۔ اس دورے سے عالمی سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ پہنچنے پر روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ترک صدر کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور  دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل ملاقات ہوئی۔

پڑھیں :   ترکی میں بغاوت کی کوشش عوام نے ناکام بنادی، 250 سے زائد افراد ہلاک

بعدازاں پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی پر عائد سیاحتی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا  کہ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وہ ترکی کے ساتھ معاشی تعلقات اور رابطوں کی بحالی کے لیے تیار ہیں‘‘۔ مغربی رہنماؤں کی جانب سے ترک صدر کے اس دورے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ دوسری جانب ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں پر یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے طیب اردگان کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں :   ترکی : بغاوت کے الزام میں 6 ہزارسے زائد افراد گرفتار

اس تنقید کے باعث طیب اردگان مغربی ممالک سے نالاں ہیں اور انہوں نے امریکا سے ترک نژاد مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت پر انہیں ذمہ دار ٹھرایا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی کی حکومت کی جانب سے روسی طیارے کو نشانہ بنانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ تھے اور دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں