The news is by your side.

Advertisement

طالبان سے متعلق یورپی یونین کا مؤقف

برسلز: یورپی یونین کا کہنا ہے کہ طالبان کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کر رہے ہیں، طالبان کے الفاظ کا موازنہ ان کے عملی کردار اور کارروائیوں سے ہی کیا جائے گا۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے افغانستان میں طالبان کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے یہ بیان طالبان کے کابل پر قبضے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

افغانستان میں یورپی اداروں کے لیے کام کرنے والے افغان اہلکاروں کے بحفاظت اسپین پہنچنے پر استقبالیہ تقریب سے خطاب میں صدر ارسلا لین نے کہا کہ طالبان کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں تاہم ان کے الفاظ کا موازنہ طالبان کے عملی کردار اور کارروائیوں سے ہی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے رواں سال کے دوران افغانستان میں انسانی امداد کی مد میں 67 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے جس میں وہ اضافے کی تجویز پیش کریں گی۔

یورپی یونین کمیشن کی صدر نے واضح کیا کہ افغانستان کے لیے مختص امداد ملک میں انسانی حقوق کی پاسداری، اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک اور خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی عزت کے ساتھ مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی کمیشن پناہ گزینوں کی آباد کاری میں مدد کرنے والے یورپی ممالک کو مالی امداد دینے کو تیار ہے، وہ پناہ گزینوں کی آباد کاری کا معاملہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والے جی سیون اجلاس میں بھی اٹھائیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں