20.8 C
Ashburn
بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

روسی تیل ’بھارت پر پابندی لگ سکتی ہے‘

اشتہار

حیرت انگیز

یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ بھارت روس سےسستاتیل خرید کر یورپ کو سپلائی کر رہا ہے تو پابندی لگ سکتی ہے.

پہلے ای یو انڈیا نیوٹریڈ کونسل اجلاس سےقبل سربراہ یورپین وزارت خارجہ نے کہا کہ اگر روسی تیل سے تیار ڈیزل، پٹرول یورپ میں داخل ہو رہا ہے تو خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو اس کیخلاف اقدامات کرنے ہوں گے۔

- Advertisement -

EU and Russia-India oil trade

فنانشل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کو روس اور بھارت کے درمیان تیل کی تجارت میں اضافے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن بھارت ڈیزل سمیت روسی تیل کو ریفائنڈ ایندھن کے طور پر یورپ میں بھیج رہا ہے تو اس کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت روسی تیل خریدتا ہے تو یہ معمول کی بات ہے اور اگر بھارت یہ تیل بہت سستا خرید سکتا ہے تو یہ ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس سے روس کو کم رقم ملے گی لیکن اگر وہ اسے ایک ایسا مرکز بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جہاں روسی تیل کو صاف کیا جا رہا ہے اور اس کی ضمنی مصنوعات ہمیں فروخت کی جا رہی ہوں تو ہمیں کارروائی کرنی چاہیے۔

مالی سال 2022-23 میں روس سے خام تیل کی ریکارڈ درآمدات نے بھارت کے ریفائنرز کو ڈیزل اور جیٹ ایندھن کی یورپ کو برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سستے روسی خام تیل تک رسائی نے بھارتی ریفائنریوں میں تیل کی پیداوار اور منافع کو بڑھادیا ہے، جس سے وہ اپنی مصنوعات یورپ کو برآمد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

روس یوکرین جنگ سے پہلے یورپ عام طور پر اوسطاً 154,000 بیرل یومیہ ڈیزل اور جیٹ ایندھن بھارت سے درآمد کرتا تھا۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے 5 فروری سے روسی تیل کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے بعد یہ بڑھ کر 200,000 تک پہنچ گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں مارچ میں روسی خام تیل کی درآمدات مالی سال کے اختتام پر سب سے زیادہ رہی جس کی وجہ سے بھارت روس سے تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے۔

کیپلر اور ورٹیکسا کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی ریفائنرز نے مالی سال میں اس کا 9لاکھ 70ہزار اور 9لاکھ 81ہزار بیرل یومیہ درآمد کیا جو مجموعی درآمدات کا پانچواں حصہ ہے اور بھارتی ڈیزل کے اہم یورپی خریدار فرانس، ترکی، بیلجیم اور نیدرلینڈز ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر انڈیا کی نجی کمپنیاں سستا روسی تیل درآمد کر رہی ہیں جس سے مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑسکتا ہے۔

روس کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی "روزنیفٹ” اور سرفہرست بھارتی ریفائنر انڈین آئل کارپوریشن نے بھارت کو فراہم کیے جانے والے تیل کی درآمدات کو بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں