The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین کا بھی آسٹرازینیکا کے استعمال سے متعلق بڑا فیصلہ

یورپی یونین کے کورونا وائرس ویکسین خریدنے کے نگران عہدیدار نے کہا ہے کہ ادارے نے برطانوی ادویات ساز کمپنی آسٹرازینیکا کو جون کے بعد کیلئے ویکسین کی مزید خریداری کے آرڈرز نہیں دیے ہیں۔

انٹرنل مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن گزشتہ روز ایک ریڈیو پروگرام میں کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں عوام کے مختلف سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔

تھیری بریٹن نے کہا کہ یورپی یونین نے آسٹرازنیکا سے ویکسین خریدنے کے آرڈر کی موجودہ معاہدے کی جون کی میعاد سے آگے کیلئے تجدید نہیں کی ہے۔

یورپی یونین نے معاہدے کی خلاف ورزی پر مذکورہ کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی اپریل میں شروع کی تھی۔ اس کے مطابق یہ کمپنی کوویڈ 19ویکسین وقت پر فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

دوران انٹرویو انٹرنل مارکیٹ کمشنر نے بعد میں کسی تاریخ پر مذکورہ ویکسین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

یورپی یونین نے امریکی ادویات ساز کمپنی فائزر اور اس کی جرمن شراکت دار بیون ٹیک سے ویکسین کی ایک ارب 80 کروڑ اضافی خوراکیں خریدنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

علاوہ ازیں ادویات اور مصنوعات صحت کی مانیٹرنگ کے برطانوی ادارے ایم ایچ آر اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق آکسفورڈ آسٹرازینیکا ویکسین پیچیدہ بیماریوں کے سدباب کے لئے تاحال مفید ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ 31 مارچ تک اس ویکسین کی وجہ سے خون جمنے کے 79 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلڈ کلاٹنگ کے ان 79 مریضوں میں سے 19 کی اموات واقع ہو چکی ہیں۔

بلڈ کلاٹنگ کے مریضوں میں 18 سے 79 سال کے درمیان مختلف عمروں سے 51 عورتیں اور 28 مرد شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے 19 افراد میں سے 3 کی عمر 30 سال سے کم بتائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ میں 20 ملین سے زائد افراد کو آسٹرازینیکا ویکسین لگائی جا چکی ہے، بعض یورپی ممالک نے خون جمنے کی وجہ سے آسٹرازینیکا کا استعمال روک دیا ہے یا پھر عمر کے مطابق ویکسین کی حد بندی کر دی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں