The news is by your side.

Advertisement

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کے لیے درخواست دائر کی۔

قائم علی شاہ کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب نے 18 دسمبر کو کال اپ نوٹس بھیجا ہے، انہوں نے کہا کہ ملیر ندی کی اراضی کی الاٹمنٹ کرنے کے بعد منسوخ بھی کردی تھی۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیب کی جانب سے کال اپ نوٹس بھیجنا سیاسی انتقام کے مترداف ہے، نیب پیپلزپارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔

قائم علی شاہ نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ نیب کے کال اپ نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے اور ساتھ ہی نیب کوگرفتاری سے روکا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی 10 لاکھ روپے کے عوض ضمانت قبل ازگرفتاری فروری کے دوسرے ہفتے تک منظور کرلی۔ عدالت نے قائم علی شاہ کو نیب انکوائری میں تعاون کی بھی ہدایت کردی۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ نے قائم علی شاہ نے میڈیا سےغیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمین جوالاٹ کی گئی تھی وہ منسوخ ہوچکی، کیس میں کچھ نہیں پھربھی مجھے نوٹس بھیجا گیا۔

قائم علی شاہ نے کہا کہ پہلےکہہ دیا تھا نیب انتقامی کارروائی کررہا ہے، حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، حکومت انتقامی کارروائی کے علاوہ اورکچھ نہیں کر رہی۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 26 دسمبرکوپی پی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہے، اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں