The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کے جیل جانے سے قیادت کا اتنا بڑا خلا پیدا نہیں ہوا جسے بھرا جائے: شاہد خاقان عباسی

لاہور: سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پارٹی کے صدر اب بھی شہباز شریف ہیں، ان کے جیل جانے سے قیادت کا اتنا بڑا خلا پیدا نہیں ہوا جسے بھرا جائے۔

اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہباز شریف جیل سے اسمبلی آتے ہیں تو بات ہو جاتی ہے، ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کا ایڈوائزری گروپ مل کر فیصلے کرتا ہے، میں پرانا کارکن ہوں مگر سب مل کر فیصلے کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی سے قربت اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے ہے۔

لیگی رہنما نے شہباز شریف کے علاج کے حوالے سے بتایا کہ ان کی طبیعت جیل میں خراب نہیں ہوئی بلکہ وہ شہباز شریف 18 سال سے روزانہ کی بنیاد پر علاج کرا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’پیپلز پارٹی سے قربت اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے ہے، اپوزیشن ملک کے مفاد میں مل کر کام کرتی ہے، مہنگائی جیسے معاشی مسائل پر اپوزیشن میں مکمل اتفاق ہے۔‘

شاہد خاقان نے کہا کہ دوست ممالک پاکستان کو قرضہ ماضی میں بھی دیتے رہے ہیں، ہر قرضے کے ساتھ کوئی نہ کوئی شرائط ہوتی ہیں، ان قرضوں کے اثرات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ متذبذب رویوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد خراب ہو سکتا ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے، ملک مشکل حالات میں گرفتار ہے، مسائل موجود ہیں، ہر حکومت کو چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، اگرچہ اب توانائی کا مسئلہ ویسا نہیں ہے جیسا ماضی میں تھا، دہشت گردی پہلے جیسی نہیں ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  نوازشریف کو قیدی نمبر الاٹ، ملاقات کا دن مختص


شاہد خاقان عباسی نے کہا ’ہمیں انتظار ہے کہ حکومت کی پالیسی یا پھر ڈائریکشن سامنے آئے، جو بات وزیرِ اعظم یا وزیرِ خزانہ کرتا ہے وہ مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘

احتساب کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ احتساب بالکل ہونا چاہیے ن لیگ کی کابینہ سے ہی احتساب شروع کریں، ہمیں جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں ہم جیل جانے کو بھی تیار ہیں، تاہم ملک میں اس وقت احتساب کے تین معیار چل رہے ہیں۔

نواز شریف نے 30 سال پہلے مل لگائی، اتنا پرانا منی ٹریل کون پاکستانی دے سکتا ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ ایک احتساب سوموٹو پر ہو رہا ہے، ایک احتساب نیب کر رہا ہے، ایک احتساب کا اعلان وزیرِ اعظم نے کر رکھا ہے۔

شاہد خاقان نے کہا کہ نواز شریف نے مل اس وقت لگائی جب کسی بینک سے قرضہ نہیں لیا تھا، جو منی ٹریل انھوں نے دکھانی تھی دکھا دی، 30 سال پرانی بات ہے، اتنا پرانا منی ٹریل کون پاکستانی دے سکتا ہے، کاروبار کر کے مل لگائی، کرپٹ لوگ پیسا نہیں کماتے، کمپنی نے 88 فی صد منافع کمایا وہ پیسا پاکستان آیا تھا، مل اوورسیز میں لگی تھی اس کے لیے بھی پیسا پاکستان سے نہیں گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میاں شریف پنجاب کے امیر ترین لوگوں میں تھے، انھوں نے جلا وطنی میں مل لگائی اور پیسا کمایا، جس ملک میں مل لگائی اسے اعتراض نہیں، یہاں اعتراض کیا جا رہا ہے۔

شاہد خاقان نے کہا کہ ایل این جی کیس میں مجھ سے پوچھا نہیں گیا، میں حاضر ہوں،پاکستان میں دنیا کے سستے ترین ٹرمینل نہیں ہوں تو میں ذمہ دار ہوں، بھارت میں ایل این جی ٹرمینل 50 فی صد سے کم کام کر رہے ہیں، فرنس آئل کو ایل این جی سے تبدیل کر دیں تو فائدہ ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں