The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب آنے سے قبل کسی اور ملک میں قیام سے استثنیٰ؟

ریاض: سعودی محکمہ پاسپورٹ نے ایسے غیرملکی کو وضاحت پیش کی جو مملکت سے روانگی کے بعد اپنی فیملی کو بھی ساتھ واپس لانا چاہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مملکت کے محکمہ پاسپورٹ(جوازات) نے واضح کردیا کہ سفری پابندی کے شکار ممالک سے اگر کسی تارک وطن کی واپسی ہوگی تو انہیں کسی ایسے ملک میں 14 دن قیام کرنا ہوگا جس پر پابندی نہیں ہے۔

جوازات سے مذکورہ تارک وطن نے سوال کیا کہ سعودی عرب میں مکمل ویکسینیشن کروا لی ہے اور اب خروج وعودہ پر جانا چاہتا ہوں جہاں فیملی بھی موجود ہے، چھٹیاں گزارنے کے بعد فیملی کے ہمراہ مملکت لوٹنے کی خواہش ہے لیکن خاندان کے افراد نے ویکسین کی دونوں خوراکیں نہیں لی ہیں، تو واپسی کیسے ممکن ہے؟۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ نے کہہ دیا کہ بغیر ویکسینیشن والوں کو کسی اور ملک میں چودہ دن قیام سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا، وہ افراد جنہوں نے مملکت میں ویکسینیشن کا کورس مکمل نہیں کیا اور وہ ممنوعہ ملک سے تعلق رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ 14 دن کسی ایسے ملک میں رہیں جہاں سے مسافروں کی آمد پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔

‘سعودی عرب براہ راست آسکتے ہیں’ غیرملکیوں کیلئے اچھی خبر

محکمہ کا مزید کہنا تھا کہ چودہ دن گزارنے کے بعد سعودی عرب آنے پر کورنا ٹیسٹ بھی ہوگا اور پھر رپورٹ منفی آنے کی صورت میں قرنطینہ ختم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ممنوعہ ممالک سے آنے والے مسافروں کو جنہوں نے مملکت میں مقررہ ویکسین کے علاوہ دوسری ویکسین لگوائی ہوگی انہیں مملکت آنے کے بعد یہاں سے بوسٹر ڈوز بھی لگائی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں