The news is by your side.

Advertisement

خروج و عودہ پر جانے والے مقررہ مدت میں واپس نہ آئے تو کیا ہوگا؟

سعودی حکومت نے خروج و عودہ ویزے پر چھٹی پر جانے والے اگر مقررہ مدت کے دوران واپس نہ آئے تو انہیں تین سال کےلیے ڈی پورٹ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق ایگزٹ ری انٹری ویزے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر محکمہ پاسپورٹ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایسے اقامہ ہولڈرز جو مملکت سے خروج وعودہ ویزے پر جاتے ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے دوران واپس آئیں اگر مدت میں توسیع کرانی ہے تو ماہانہ 100 ریال کے عوض توسیع کرائی جاسکتی ہے۔

محکمہ پاسپورٹ نے واضح کیا کہ ایسے اقامہ ہولڈر غیر ملکی جو خروج وعودہ کی مدت ختم ہونے کے بعد مملکت واپس نہیں آتے وہ خروج و عودہ کے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پاتے ہیں جس کے باعث انہیں بلیک لسٹ کرکے تین سال بعد ورک ویزے پر سعودی عرب آنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں محکمہ پاسپورٹ سعودی عرب نے کہا کہ جن ممالک (بشمول پاکستان) سے مسافروں کے براہ راست مملکت آنے پر پابندی ہے وہاں گئے ہوئے غیر ملکی کارکنوں کے اقامے اور خروج وعودہ کی مدت میں 31 مارچ تک توسیع کی گئی ہے۔

محکمہ پاسپورٹ نے واضح کیا کہ مطلوبہ ماہ کی فیس ادا کرکے توسیع کروائی جاسکتی ہے تاہم خروج و عودہ کی مدت میں 31 مارچ کے بعد توسیع نہیں کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں