The news is by your side.

Advertisement

ماہرین ڈپریشن کی اہم وجہ تک پہنچ گئے

دنیا بھر میں شہری ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں لیکن نوجوانوں میں اس کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں ذہنی دباؤ کے باعث خود کشیاں رپورٹ ہوتی آرہی ہیں۔

طبی ماہرین نے ایک تحقیق کے ذریعے ڈپریشن کی اہم وجہ جاننے کی کوشش کی اور ممکنہ طور پر کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق لڑکپن میں اپنی جسمانی ساخت سے ناخوش نوجوانوں میں کچھ برسوں بعد ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شایع ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی ڈپریشن کی وجہ ظاہری روپ بھی بنتی ہے، اور لڑکیوں میں یہ شرح لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 61 فیصد نوجوان جسمانی عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں، اور بلوغت سے قبل اپنی شخصیت کے ظاہری روپ سے ناخوش نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 50 سے 285 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ محققین نے اس ریسرچ میں مخصوص لوگوں کو شامل کرکے طویل المیعاد بنیاد پر مشاہدہ کیا۔

تحقیق میں شامل 14 سال کے 3753 بچوں(1675 لڑکے اور 2078 لڑکیاں) سے کہا گیا کہ وہ اپنی جسمانی شخصیت کو صفر سے 5 کے درمیان اسکور دیں تو لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں نے زیادہ عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

ڈپریشن کے بارے میں اہم معلومات

بتیس فیصد لڑکیوں اور 14 فیصد لڑکوں نے اپنے وزن پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ، اسی طرح 27 فیصد لڑکیاں اور 14 فیصد لڑکے اپنی جسمانی ساخت سے ناخوش تھے۔ خیال رہے کہ یہ تحقیق برطانیہ کے ایک خاص علاقے کے لوگوں پر کی گئی تھی۔ وہی بچے جب 18 سال کے ہوئے تو ان میں ڈپریشن کی علامات کا تجزیہ کیا گیا۔

یہ بھی پتا چلا کہ لڑکیوں کو ڈپریشن کا تجربہ لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، 7 فیصد لڑکیوں اور3 فیصد لڑکوں میں ڈپریشن کی کم از کم سنگین علامت دیکھی گئی۔ جبکہ ڈیڑھ فیصد لڑکیوں اور ایک فیصد سے کم لڑکوں کو ڈپریشن کا سامنا ہوا، نوعمری میں اپنے جسم سے ناخوش افراد میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں