The news is by your side.

زائد المیعاد گوشت کب اور کہاں سے آیا؟ متعلقہ محکمہ بھی لاعلم

کراچی : ایری زونا گرل ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اپنے گاہکوں کو ایک عرصے سے زائد المیعاد گوشت کھلاتی رہی۔ ایک سال سے ایری زوناگرل ریسٹورنٹ نے کسی قسم کا گوشت درآمد نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ کورنٹائن کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایری زونا گرل ریسٹورنٹ میں زائد المیعاد گوشت کب اور کہاں سے درآمد کیا گیا اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹرمحمد الیاس کے مطابق گزشتہ ایک سال سے ریسٹورنٹ نے گوشت درآمد ہی نہیں کیا، زائد المیعاد گوشت کب اور کہاں سے آیا ؟ کوئی ریکارڈ سرے سے موجود ہی نہیں ہے، دو ہزار سترہ سے پہلے پاکستان میں درآمدی گوشت کی چیکنگ کا کوئی محمکہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ ایری زونا گرل ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد خاتون اور دو بچوں کی حالت غیر ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں دو بچے محمد اور احمد دم توڑ گئے تھے ان کی والدہ اسپتال میں تاحال زیر علاج ہیں۔

واقعے کے بعد سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے گودام پر چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں زائد المیعاد گوشت اور دیگر سامان برآمد ہوا تھا، بعدا زاں ایری زوناگرل کے گودام سے برآمد ہونے والا زائدالمیعاد گوشت سرجانی ٹاؤن ڈمپنگ پوائنٹ میں تلف کردیا گیا، سندھ فوڈ اتھارٹی نے80 کلو سے زائد گوشت کو زمین میں دبا کر کیمیکل ڈال دیا۔

فوڈ اتھارٹی کے مطابق اس کے علاوہ برآمد شدہ زائدالمیعاد مشروبات کو کورنگی ڈمپنگ پوائنٹ پر تلف کیا گیا، گودام سے ملنے والے گوشت اور مشروبات کے نمونے ٹیسٹ کیلئے لے لیےگئے۔

ڈائریکٹرمحکمہ کورنٹائن محمد الیاس کی صحافیوں سے گفتگو

ڈائریکٹرمحکمہ کورنٹائن محمد الیاس نے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جولائی2017تا2018ساڑھے45لاکھ42ہزار کلو گوشت درآمد کیا گیا،جولائی2017سےاب تک166درآمدی کنسائمنٹ آئے،37لاکھ10ہزار ڈالرکا گوشت، گردے، کلیجی اور اوجھڑی درآمد کی گئی۔

ایک کنسانمنٹ کے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے75روپے فیس  مقرر  ہے، بجٹ محدود ہونے کی وجہ سے باہر سے لیبارٹری ٹیسٹ کراتے ہیں، جس کیلئے ایک ٹیسٹ کے10سے15ہزار روپے تک ادائیگی کی جاتی ہے، محکمہ کے پاس لیبارٹریاں ہیں لیکن فنڈ ز نہ ہونے کے باعث کام نہ ہونے کے برابر ہورہا ہے۔

کورنٹائن ڈیپارٹمنٹ درآمدی اشیاء خوردونوش کی نگرانی کاذمہ دار ہے، اس محکمے میں 40 افراد کام کرتے ہیں، درآمدی پالیسی میں کلیجی، پائے ،دل ، گردہ اور گوشت کی اجازت ہے، درآمد اور برآمد کیلئے کورنٹائن محکمے کا کلیئرنس سرٹیفیکٹ لازمی ہوتا ہے، وفاقی محکمہ کورنٹائن کابجٹ ساڑھے8کروڑ30لاکھ ہے، محکمہ کورنٹائن کیلئے سندھ کا بجٹ 3 کروڑ 75 لاکھ روپے ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کا بجٹ20کروڑروپے، کارکردگی صفر

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کا بجٹ20کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے، کروڑوں روپے کا بجٹ ملنے کے باوجود سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گیا،۔

بجٹ کے5کروڑ روپے سندھ فوڈ اتھارٹی کو پہلے ہی مل چکے ہیں، کروڑوں روپے تو مل گئے لیکن عملے کے پاس گاڑی ہے اور نہ ہی کوئی موبائل ٹیسٹنگ وین۔ اس کے علاوہ فوڈ اتھارٹی فیلڈ فورس بنانے میں بھی تاحال ناکام ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی، کلفٹن کے سیل ریسٹورنٹ کے خفیہ گودام سے چار سال پرانا سڑا ہوا گوشت برآمد

ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی نے7ماہ میں 40 چھاپے مارے اوردکانداروں پر16لاکھ روپے کے جرمانےکئے، حال ہی میں سڑا ہوا گوشت ملنے پر نجی ریسٹورنٹ کی کھلی ہوئی شاخیں فوڈ اتھارٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں