The news is by your side.

Advertisement

انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے افغان طالبان سے رابطے شروع

واشنگٹن: افغانستان سے امریکی فوجیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے امریکا، جرمنی اور ترکی نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے امریکا، جرمنی اور ترکی کی جانب سے افغان طالبان سے رابطے کیے جا رہے ہیں، طالبان کے ساتھ ان ممالک کے مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ دوحہ مذاکرات میں افغانستان سے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، اور آج ترجمان طالبان نے پریس کانفرنس میں 31 اگست کی ڈیڈ لائن کو حتمی قرار دیا تھا، جب کہ مختلف ممالک افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع چاہتے ہیں۔

آج پینٹاگون کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پینٹاگون 31 اگست تک انخلا مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تاریخ میں توسیع پر طالبان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

انخلا میں توسیع، طالبان کی جانب سے مغرب کو سنگین نتائج کی تنبیہ

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان میں جاری انخلا آپریشن میں اب تیزی آ رہی ہے، انخلا کے معاملے پر طالبان نے مجموعی طور پر معاہدے کی پاس داری کی ہے، امید ہے انخلا 31 اگست تک مکمل ہو جائے گا۔

امریکی صدر نے پریس کانفرنس کے دوران صحافی کی جانب سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر انخلا کی ڈیڈ لائن میں ممکنہ توسیع پر بات چیت جاری ہے۔

تاہم دوسری طرف آج افغان طالبان کی جانب سے مغرب کو انخلا میں توسیع پر سنگین نتائج کی تنبیہ کی گئی ہے، برطانوی ٹی وی اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ 31 اگست ایک سرخ لکیر ہے، صدر بائیڈن نے کہا تھا ان کی افواج 31 اگست تک افغانستان سے باہر ہوں گی، سہیل شاہین نے کہا کہ انخلا میں توسیع افغانستان پر مغربی قبضے کی مدت میں اضافے کے مترادف ہوگا، اور اس توسیع پر مغرب کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سربراہ طالبان دعوت و رہنمائی امیر خان متقی نے ایک ٹوئٹ میں واضح کیا ہے کہ 31 اگست تک غیر ملکی افواج  افغانستان سے نکل جائیں، 31 اگست کے بعد توسیع کا مطلب افغانستان پر قبضےکو طول دینا ہوگا، انخلا نہ کیا تو تھکا دینے والے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،اور سب ذمےداری امریکا پر  عائد ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں