The news is by your side.

Advertisement

سیکیورٹی پرائیوسی کے حوالے سے فیس ایپ کی وضاحت

ماسکو: موبائل ایپلیکشن فیس ایپ کے حوالے سے چہ میگوئیاں کی جارہی تھیں کہ کمپنی کے پاس جانے والی صارفین کی تصاویر غیر محفوظ ہیں جو کسی بھی وقت لیک ہوسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صارفین کی عمر تبدیل کرنے اور ان کی تصاویر ماضی یا مستقبل میں تبدیل کرنے والی موبائل ایپلیکشن کو بالخصوص امریکی سینیٹر اور ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے صارفین کے لیے خطرناک قرار دیا۔

امریکا سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا کہ وہ فیس ایپ استعمال نہ کریں کیونکہ اُن کی تصاویر کو جب چاہیے کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

اسی طرح امریکی سینیٹر چک شومر نے امریکا کے تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ فیس ایپ نامی ایپلیکشن پر فوری پابندی عائد کریں کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا اور امریکا کو خطرہ ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ روس کی بنائی ہوئی فوٹو ایڈیٹنگ ایپلیکیشن ’فیس ایپ‘ کے نام سے کررہی ہے، صارف تصویر پر فلٹر لگا کر عمر میں اضافہ یا اُسے کم کردیتا ہے۔

مزید پڑھیں: فیس ایپ ، ’’ کمپنی تصاویر کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے‘‘

قیاس آرائیاں شروع ہونے کے بعد صارفین تذبذب کا شکار تھے البتہ اب فیس ایپ کے بانی نے وضاحتی بیان جاری کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا اُن کے پاس محفوظ ہے اور اُس تک کوئی حتیٰ کہ حکومت بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔

فیس ایپ کے بانی یاروسلاو گونچارو کا کہنا تھا کہ اُن کی کمپنی صارفین کے ڈیٹا کو کسی بھی تھرڈ پارٹی سے شیئر نہیں کرتی جبکہ صارف اپنا ڈیٹا سروس سے ہٹانے کی درخواست بھی کرسکتا ہے۔

انہوں نے سسٹم سے ڈیٹاحذف کرنے کا طریقہ بھی بتایا جس کے مطابق صارف ایپ کے ذریعے ہی درخواست کرسکتا ہے۔

ڈیٹا ہٹانے کی درخواست کا طریقۂ کار

یاروسلاو کا کہنا تھا کہ صارف اپنے فون پر انسٹال ہونے والی ایپ کھول کر سیٹنگ کے آپشن میں جائے جہاں سے سپورٹ کا بٹن نظر آئے گا اُس پر کلک کرتے ہی رپورٹ ڈی بگ کا آپشن آئے گا جسے کلک کریں۔

اگلے مرحلے میں ایک باکس کھلے کا جس کا موضوع پرائیوسی ہوگا، یہاں صارف اپنا ڈیٹا ہٹانے کی درخواست تحریر کرے، کمپنی کو درخواست موصول ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر ڈیٹا ہٹا دیا جائے گا۔

فیس ایپ کے بانی کا کہنا تھا کہ اگر ڈیٹا ہٹنے میں کچھ دیر لگ جائے تو صارف کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری ٹیم پر بہت زیادہ دباؤ ہے، وہ ترجیح بنیادوں پر  درخواستوں پر کام کررہے ہیں جبکہ مستقبل میں تصاویر ہٹانے کے عمل کو مزید آسان بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں