The news is by your side.

Advertisement

فیس بک استعمال نہ کرنے والے صارفین کا ڈیٹا بھی کمپنی کے پاس موجود ہونے کا انکشاف

سانس فرانسسکو: سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جو صارفین فیس بک استعمال نہیں کرتے اُن میں سے بیشتر کا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی امریکی کانگریس کے سامنے گذشتہ ہفتے صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق  صفائی دینے کے بعد فیس بک کی جانب سے لوگوں کا اعتماد بڑھانے کے لیے ایک نیا بلاگ پوسٹ کیا گیا جس میں ڈیٹا محفوظ ہونے کی ایک بار پھر یقین دہانی کروائی گئی۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ بہت ساری ویب سائٹس اور موبائل ایپ کی کمپنیاں ہمارے ساتھ اشتہارات کی وجہ سے کام کرتی ہیں اس لیے ضروری نہیں کہ اگر کوئی صارف فیس بک استعمال نہ کرتا ہو تو اُس کا ڈیٹا کمپنی کے پاس محفوظ نہیں ہوگا۔

بلاگ میں کہا  گیا ہے کہ  اشتہارات سے آمدنی حاصل کرنے والے ادارے ہمیں اپنے صارفین کا ڈیٹا بھیجتے ہیں جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اُن کو اشتہارات دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیٹا چوری تنازع، امریکی سینیٹر کی فیس بک کے بانی پر کڑی تنقید

فیس بک کے پروڈکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حالیہ تنازع سامنے آنے کے بعد بہت سارے صارفین نے اپنے اکاؤنٹس فیس بک سے اس لیے بند کیے کہ شاید اُن کا ڈیٹا غیر محفوظ ہے مگر ایسا ہرگز نہیں کیونکہ کمپنی صارف کے ڈیٹا کو  محفوظ بنانے کے لیے ہر سطح پر کوشش کرتی ہے بلکہ یہ ہمارے پاس بالکل محفوظ ہے۔

اُن کا کہناتھا کہ ’فیس بک دیگر ویب سائٹس کو صارفین مہیا کرنے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے جس کے مختلف طریقے ضرور ہیں مگر اس میں سے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں جس کی وجہ سے صارفین کا اعتماد کم ہو‘۔

پروڈکٹ مینیجر کا کہنا تھا کہ ’جب آپ فیس بک کو کمپیوٹر یا موبائل ایپ پر استعمال کرتے ہیں تو سارا ڈیٹا ہمارے پاس آجاتا ہے حتی کے لاگ آؤٹ ہونے کے باوجود بھی یہ ہمارے پاس ہی رہتا ہے تاہم اس بات کا علم ہماری ٹیم کو بھی نہیں ہوتا کہ آئی ڈی استعمال کرنے والا صارف دراصل کون ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بُک پر سیاسی اشتہار دینے کے لیے شناخت ظاہر کرنا لازمی

فیس بک نے انکشاف کیا کہ بہت ساری کمپنیاں جو اشتہارات حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ فیس بک کے ساتھ صارفین کا ڈیٹا شیئر کرتی ہیں، بہت سارے لوگ جو فیس بک استعمال نہیں کرتے اُن کا ڈیٹا بھی فیس بک کے پاس موجود ہے‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب صارف فیس بک ایپ یا کمپیوٹر کے ذریعے  اپنی آئی ڈی لاگ ان کرتا ہے تو ہمارے سسٹم میں صرف اُس کا آئی پی ایڈریس ظاہر ہوتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں