The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کیلیے “فیس بک” کا کردار

مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے کہا ہے کہ کمپنی نے افغانستان سے 175 افراد کو انخلا میں مدد فراہم کی، جن میں اس کا اسٹاف بھی شامل تھا جو طالبان کے زیر قبضہ علاقے سے میکسیکو پہنچے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق میکسیکو کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صحافیوں ایکٹوسٹس اور ان کے اہل خانہ رواں ہفتے کے شروع میں میکسیکو پہنچے جن میں 75 بچے بھی شامل ہیں۔

فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے مدد فراہم کرنے کے اس عمل میں فیس بک کے ملازمین اور قریبی شراکت دار افغانستان سے روانہ ہوئے۔

ہم نے شدید خطرات میں گھرے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ اور ان کے اہلِ خانہ کو افغانستان سے نکالنے کی کوششوں میں تعاون فراہم کیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وہ میکسیکو کی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جہاز کو ابتدائی طور پر اترنے کی اجازت دینے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ چوتھی پرواز ہے جسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میکسیکو آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے تین پروازوں کے ذریعے امریکہ کے اہم اخبارات سے وابستہ میڈیا کارکن افغانستان سے میکسیکو پہنچے تھے۔ میکسیکو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ’آنے والے نئے گروپ میں سوشل میڈیا کارکن، ایکٹوسٹس، آزاد صحافی اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ فیس بک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر طالبان کے بڑھتے ہوئے مواد کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں اور افغانستان میں صارفین کے لیے ایک اضافی پرائیویسی فیچر بھی شامل کیا ہے۔

تازہ ترین اقدام میں افغانستان کے لوگوں کے لیے ایک کلک کی آپشن شامل کی گئی ہے جو انہیں اپنے اکاؤنٹس کو لاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پرائیویسی سیٹنگ دیگر صارفین کو جو ان کے فیس بک فرینڈز نہیں ہیں اپنی پروفائل فوٹو ڈاؤن لوڈ کرنے یا شیئر کرنے یا اپنی ٹائم لائن پر پوسٹس دیکھنے سے روک دے گی۔

اضافی ٹولز میں طالبان کی حمایت میں مواد پر فیس بک کے پلیٹ فارم پر مستقل پابندی شامل ہے کیونکہ امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی، جو مینلو پارک، کیلی فورنیا میں واقع ہے، طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے فیس بک نے افغان ماہرین کی ایک ٹیم ی خدمات حاصل کی ہیں جو مقامی زبان ’دری‘ اور ’پشتو‘ بولنے والے ہیں اور مقامی حالات و واقعات سے واقفیت بھی رکھتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے طالبان سے منسلک مواد کی نگرانی کی جاسکے اور اسے ہٹایا جاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں