The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک کی بڑھتی مقبولیت پر فیس بک کا بڑا اقدام

ٹک ٹاک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے فیس بک کو بھی اپنے فیچر تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

گذشتہ سال جون میں بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی کے فوری بعد انسٹاگرام نے معروف چینی ایپ کی نقل پر مبنی فیچر “ریلز” کو متعارف کرایا اب انسٹاگرام کی ملکیت رکھنے والی کمپنی فیس بک نے بھی ریلز کو “بلیو ایپ” کا حصہ بنالیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے اس فیچر کی آزمائش بھارت میں صارفین کی محدود تعداد میں کی جارہی ہے، جو مختصر ویڈیو کو انسٹاگرام اور فیس بک دونوں میں شیئر کرسکتے ہیں۔

نئے فیچر میں اگر صارف مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہیں تو ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی اس کے ساتھ منسلک ہوگا اس کے علاوہ یہی صارفین فیس بک کے اپنے ٹولز استعمال کرکے بھی مختصر ویڈیوز بناسکتے ہیں۔

بھارت کے بعد فیس بک کی جانب سے یہ فیچر دنیا بھر میں رواں سال کسی وقت متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جس کی دو اہم وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی سے فائدہ اٹھا کر اس کے صارفین کو انسٹاگرام اور فیس بک کا حصہ بنانا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ٹک ٹاک اب بھی مختصر ویڈیوز کے شعبے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، مگر کراس شیئرنگ فیچر سے بڑے کریٹئیرز کو فیس بک اپنی جانب مائل کرسکے گی۔

اس نئے فیچر سے لوگ اپنی انسٹاگرام ریلز کو فیس بک پر بھی ریکومینڈ کرسکیں گے اور اس طرح زیادہ افراد تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  واٹس ایپ نے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی

فیس بک کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ بھارت میں ہم اس فیچر کی آزمائش کررہے ہیں تاکہ وہ انسٹاگرام کے ساتھ فیس بک پر بھی نئے لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں اور لوگوں کو زیادہ تفریحی مواد میسر آسکے، فیس بک انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ مین ایپ میں ریلز کا اپنے ورژن کو بھی متعارف کرائے گی۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک کی مقبولیت کے بعد صرف فیس بک ہی نہیں بلکہ گوگل، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اورر نیٹ فلیکس نے بھی مختصر ویڈیو سروسز کو اپنے پلیٹ فارمز کا حصہ بنایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں