بطور شاعرہ فدوی طوقان کا یہ تذکرہ ایک ایسی لڑکی سے بھی متعارف کرواتا ہے جو قدامت پرست معاشرے، خاندان کی روایتی سوچ اور ماں باپ کی بے اعتنائی کے سبب ایامِ طفلی ہی میں رنجیدہ و مغموم رہنے لگی تھی۔ حزن و یاس سے اس کا بچپن خوب خوب آشنا تھا جب کہ اسے تو ابھی والدین کے پیار و محبت اور ان کی شفقت کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ ماضی کا درد اور دل کی کسک ہمیشہ فدوی کے ساتھ رہی اور فدوی طوقان کی شعری و نثری تخلیقات میں ذاتی دکھ اور کرب کے ساتھ فلسطین جو اس کا وطن تھا، اس کی آزادی کی خواہش اور احتجاج کی جھلک بھی نمایاں ہے۔
فدوی طوقان کے بھائی ابراہیم طوقان ایک کہنہ مشق شاعر اور قلم کار تھے اور انہی کے طفیل ان کی بہن نے فن و تخلیق کے ذریعے اپنے درد کا درماں کیا۔ فدوی طوقان کی پیدائش فلسطین کے نابلس شہر میں ۱۹۱۷ میں ہوئی۔ وہ ایک ذی حیثیت اور متمول گھرانے کی فرد تھیں۔ لیکن سختیاں اور جبر کے ساتھ لڑکی ہونے کے ناتے فدوی کو کئی مرتبہ غیر اہم ہونے کا احساس ہوتا رہا اور گھر کی چہار دیواری سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ گھر کا ماحول نہایت عجیب تھا جس کا ذکر فدوی طوقان اپنی سوانح حیات میں کرتی ہیں: ”مال اور نرینہ اولاد میرے والد محترم کے متاع حیات اور سامان زندگی تھے۔ اور وہ پانچوے لڑکے کے خواہش مند تھے، لیکن میں نے ان کی امید پر پانی پھیر دیا۔ اب ابو کے پاس چار لڑکوں کے ساتھ ساتھ تین لڑکیاں بھی ہو گئیں۔ اور میرے بعد ادیبہ، پھر نمر پھر حنان آئے، اس طرح ہم لوگ کل دس ہو گئے۔“
ایک اور جگہ وہ لکھتی ہیں: ”ازدواجی زندگی کے ابتدائی ایام میں میرے والد محترم نے میری والدہ محترمہ سے کچھ وقت کے لیے قطع تعلق کر لیا تھا۔ کیونکہ والدہ کی جانب سے اسقاطِ حمل کی کوشش نے ابو کو رنجیدہ اور غضب ناک کر دیا تھا۔” دوسری طرف وہ ایک ایسی ماں کی بیٹی تھیں جو خود عورت ہونے کے باوجود اس ذات کو کمتر اور حقیر جانتی تھی اور توہین آمیز رویہ رکھتی تھی۔ جبر و گھٹن کا ماحول دیکھنے والی فدوی طوقان کی زندگی کا المیہ یہ تھا کہ وہ مامتا سے محروم رہیں اور والدہ نے فدوی کو گلے نہ لگایا بلکہ ایک خادمہ کو سونپ دیا۔
گھر کے اسی سخت اور نفرت پر مبنی ماحول کے ساتھ اس دور کی روایتی ثقافت ایسی تھی کہ فدوی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر پر ہی رہنے لگیں۔ انھیں مزید پڑھنے کے لیے کوئی راستہ نہیں دیا گیا، لیکن بعد میں ان کے بھائی نے اپنی بہن کی خداداد صلاحیتوں کو پہچان کر انھیں لکھنے پڑھنے پر آمادہ کیا اور ان کی ہر قدم پر مدد اور راہ نمائی کی جس کے بعد فدوی کی شاعری اور نگارشات مختلف جرائد و رسائل کی زینت بنیں۔ اور پھر وہ وقت کہ فدوی طوقان سر زمین فلسطین کی مایہ ناز شاعرہ اور ادیب بن کر ابھریں۔ انھیں دنیا بھر میں عربی ادب کے حوالے سے پہچان ملی۔
فدوی کے والد کو اگرچہ اپنی بیٹی سے کوئی لگاؤ نہ تھا، مگر وہ ایک ایسے شخص تھے جو قومی تحریک کی جانب مائل تھے، اور مغربی استعمار کے تجاوزات کے خطرات سے خوب آگاہ تھے۔ فدوی نے انہی سے اپنی زمین سے محبت کرنا سیکھا تھا۔ بھائی ابراہیم نے بعد میں اپنی بہن کو حریت اور آزادی کے معنی سمجھائے اور پھر ان میں سماجی پستی کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا۔ لیکن ان کے ساتھ ملک بھر میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والی فدوی کو1941ء میں اپنے بھائی سے دائمی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ ان کی موت سے فدوی کو بے انتہا تکلیف ہوئی اور انھوں نے متعدد مراثی بھی لکھے۔
فدوی طوقان کی تخلیقات پر مشتمل شعری مجموعہ ” وحدی مع الایام ”، “الرحلۃ المنسیۃ ” اسفار کا تذکرہ ہے جب کہ ”امام الباب المغلق” ، ”علی قمۃ الدنیا وحیدا” ، تموز و الشیء الآخر، ” اللحن الاخیر ” اور نقد و تبصرہ پر مبنی فدوی طوقان کے مقالات اور سوانح وغیرہ شامل ہیں۔ فدوی طوقان کے اشعار اور ان کی نثری تخلیقات آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعماری قوتوں اور غاصب صیہونیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں۔ وہ 12 دسمبر 2003 کو نابلس ہی میں وفات پاگئی تھیں۔