The news is by your side.

ناکام حملے میں 1200 یوکرینی فوجی ہلاک

ماسکو: یوکرینی فوجیوں کو جنوبی یوکرین میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، خیرسن میں ایک ناکام حملے میں روسی فوج کے ہاتھوں ایک ہزار 200 سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین نے ملک کے جنوبی حصے میں روسی فوجیوں پر زمینی حملے شروع کر دیے ہیں، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل روس فوج پر صرف فضائی حملے کیے جا رہے تھے۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ایگور کوناشینکوف نے میڈیا کو بتایا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کے حکم پر یوکرینی فوج نے نیکولائیف، کریوئی روگ اور دیگر علاقوں میں جارحانہ کارروائی شروع کرنے کی کوشش کے دوران گزشتہ روز بارہ سو سے زائد اہل کار کھو دیے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ جنوبی یوکرینی علاقوں میں یوکرینی فوج کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی افواج نے اپنی مؤثر کارروائیوں میں 48 ٹینک، 46 انفنٹری فائٹنگ وہیکلز، 37 دیگر جنگی بکتر بند گاڑیاں، 8 بڑی مشین گنوں والی پک اپ گاڑیاں تباہ کر دیں۔

انھوں ںے کہا کہ روسی فوج نے دشمن کی پیش قدمی کو پسپا کرتے ہوئے انھیں مغربی یوکرین سے دوبارہ پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کوناشینکوف نے مزید بتایا کہ نیپروپیٹروسک ریجن میں روسی افواج نے انتہائی درست نشانہ بنانے والے زمینی ہتھیاروں کی مدد سے 200 سے زیادہ یوکرینی عسکریت پسندوں اور 40 کے قریب غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کو ہلاک کیا۔

ترجمان کریملن دمیتری بیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے طے شدہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب روس نے یورپ کو گیس کے سپلائی 3 دن کے لیے دوبارہ بند کر دی ہے، ترجمان کریملن کے مطابق نارڈ اسٹریم ون پائپ لائن کو مرمت کے لیے بند کیا جا رہا ہے، پابندیوں کی وجہ سے تیکنیکی مسائل حل نہیں ہو رہے۔

ادھر فرانس نے روس پر گیس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، فرانسیسی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ گیس سپلائی پر مزید دباؤ کا سامنا ہے، روس یوکرین پر یورپ کی مخالفت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں