چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کا مقدمہ، فیصل رضا عابدی کی ضمانت منظور
The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کا مقدمہ، فیصل رضا عابدی کی ضمانت منظور

اسلام آباد :چیف جسٹس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کے کیس میں پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کی ضمانت منظور کرلی گئی اور ایک لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چیف جسٹس کے خلاف نازیباالفاظ کے استعمال کیس کی سماعت ہوئی ، فیصل رضا عابدی اے ٹی سی جج سید کوثر عباس زیدی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں فیصل رضا عابدی نے عبوری ضمانت کیلئے درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کرلی۔

اے ٹی سی جج کوثر عباس نے فیصل رضا عابدی کی ضمانت گیارہ اکتوبر تک منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

گذشتہ روز پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی نے خفاظتی ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کی ایک روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ کہاں ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ ٹرائل کورٹ اسلام آباد میں ہے۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا ایک ہی شہر کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے حفاظتی ضمانت کا کوئی تصور نہیں، فیصل رضا کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کرنی چاہیے۔

عدالت نے 5 ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں : چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ پر سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کے خلاف مقدمہ

یاد رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف نازیبا الفاظ بولنے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کے خلاف 21 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکٹریٹریٹ میں مقدمہ سپریم کورٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ فیصل رضا عابدی نے ایک ٹی وی پروگرام میں چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ ایف آئی آر میں مذکورہ پروگرام کے اینکر کا نام بھی درج کیا گیا ہے اور اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ فیصل رضا عابدی سنہ 2009 سے 2013 تک پی پی کے سینیٹر رہے۔ اس دوران وہ کئی قائمہ کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں