site
stats
پاکستان

تین رکنی وفد فاروق ستار سے ملاقات کرے گا، امید ہے، حل نکل آئے گا: فیصل سبزواری

Faisal Sabzwari
کوئی بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہتے، کوشش ہے تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ہم کوئی بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہتے، کوشش ہے اندرونی تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے.

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.

ان کا کہنا تھا کہ سید سردار، رؤف صدیقی، جاوید حنیف پر مشتمل تین رکنی وفد فاروق ستار سے ملاقات کرے گا، تینوں ذمہ داران فاروق ستارکومختصر ایجنڈا پیش کریں گے. امید ہے کہ فاروق ستار کو منا لیا جائے گا۔

ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ پہلے رائے رابطہ کمیٹی دیتی تھی، فیصلے لندن سےہوتے تھے، اب رائے اور فیصلے رابطہ کمیٹی ہی کرتی ہے.

انھوں نے کہا کہ سینیٹ کےانتخابات کیلئے تمام تیاریاں کرچکے ہیں، کاغذات نامزدگی موجود ہیں، کوشش ہے کوئی بھی پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی نہ کرے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی مسئلے کا مثبت حل نکل آئے گا.

یاد رہے کہ گذشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان میں کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر پھوٹ پڑی گئی تھی، جب کے بعد بہادر آباد اور پی آئی بی میں‌ الگ الگ پریس کانفرنسیں کی گئیں.

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا فاروق ستار کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ آج متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کے بلائے گئے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فیصلہ بہادر آباد میں ڈپٹی کنوینرز کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا.

تین رکنی وفد اور شرائط

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کا تین رکنی وفد فاروق ستار کو منانے پی آئی بی پہنچ گیا ہے۔ وفد میں رؤف صدیقی، جاویدحنیف او  سید سرداراحمد شامل ہیں۔

ذرایع کے مطابق وفد نے دو شرائط فاروق ستار کے سامنے رکھی ہیں، جن میں آج کے جنرل ورکرز اجلاس کی منسوخی اور فاروق ستار کی بہادر آباد آکر اجلاس کی صدارت کرنا شامل ہے، جس کے بعد رابطہ کمیٹی کامران ٹیسوری کے معاملے پر نظر ثانی کرنے کو تیار ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top