اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر و سینیٹر فیصل واوڈا نے سوال اٹھایا ہے کہ کب تک ایکسپائر جمہوری لاشیں معاشی فیصلے کرتی رہیں گی؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ وزرا حکومتی امور چلانے میں سنجیدہ نہیں، وزرا قائمہ کمیٹیوں میں پیش نہیں ہوتے، جس قائمہ کمیٹی میں جاتا ہوں وزیر غائب ہوتا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں فیصلے پسند ناپسند پر ہوتے ہیں، کابینہ کو جو پیارا ہو اس کی تجویز فوری منظور ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل واوڈا ایک اور میگا کرپشن اسکینڈل سامنے لے آئے
گزشتہ روز اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں سابق وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی صورتحال ہماری کرکٹ جیسی ہے جہاں پی ٹی آئی (ن) لیگ کی ضمانتی ہے۔
سینیٹر نے کہا تھا کہ میں نے (ن) لیگ کی چائے کی پیالی پی اور نہ ہی سینیٹر بننے کیلیے ان کا ووٹ لیا، اس وقت ساری بڑی پارٹیاں حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہیں، پی ٹی آئی کس کے ساتھ اتحاد کرنے جا رہی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے ایک مقبول جماعت تھی اب وہ بات نہیں ہے، پی ٹی آئی صرف اشتعال دلا رہی ہے، رمضان کے بعد بھی مجھے گرینڈ الائنس جیسا کچھ نظر نہیں آ رہا۔
’پی ٹی آئی (ن) لیگ کی ضمانتی ہے، ان کی وجہ سے ہی حکومت ہے، عمران خان کی بہنیں کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کمپرو مائزڈ ہے، بانی کو جیل میں رکھ کر یہ لوگ اقتدارکے مزے لے رہے ہیں۔ عمران خان کے خط کی ان کی اپنی پارٹی نے حمایت نہیں کی، ان کو خود ان کی اپنی پارٹی نے ڈس اون کیا ہوا ہے۔‘