بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

خبر ہے مخصوص میڈیا گروپس میں پھر کوئی پروپیگنڈا ہونے کو ہے، فیصل واوڈا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر و سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ خبر ہے مخصوص میڈیا گروپس میں پھر کوئی پروپیگنڈا ہونے کو ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر فیصل واوڈا کی جانب سے اہم بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈے میں کردار عالمی طاقتوں سے جڑے وہی لیکس والے کھلاڑی ہیں، اس پروپیگنڈا کی ٹائمنگ چیک کریں۔

فیصل واوڈا نے سوال کیا کہ کیا آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والی منصوبہ بندی اور اس کھیل کے کھلاڑی ایک ہی ہیں؟ پروپیگنڈا میں ممکنہ طور پر کئی اہم شخصیات کی پراپرٹیز سے متعلق گمراہ کُن تفصیلات بتائی جائیں گی۔

- Advertisement -

سابق سینیٹر نے کہا کہ ایک مخصوص طبقے کو کلین چٹ دینے کا فرمائشی پروگرام بھی بنایا گیا ہے، کیا آنے والی اس مہم کا ٹارگٹ ایس آئی ایف سی، دوست ممالک یا پاکستان میں آنے والی عالمی سرمایہ کاری ہے؟

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ اس کا حتمی ہدف کون ہے؟ وقت آنے پر سب بتاؤں گا۔

چند روز قبل فیصل واوڈا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کی روایت ہے باپ سے معافی مانگنا پڑتی ہے، ملک کا مزید نقصان نہ کریں ایسا نہ ہو واپسی کا کوئی راستہ نہ رہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو ذمہ داری دکھانے کی ضرورت ہے، ووٹ لے کر آگئے ہیں تو اب اس کو ذاتی دشمنی نہیں بنانا چاہیے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا بانی پی ٹی آئی کو ڈیل کی کوئی پیشکش نہیں ہو رہی، صرف موجودہ حکومت سے ہی پی ٹی آئی بات چیت کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی میں سارے ہی اینٹی اسٹیبشلمنٹ ہیں، ہر پارٹی میں ایسا ٹولہ ہوتا ہے جو انتشار کو ہوا دیتا ہے، پی ٹی آئی میں ایک شرارتی ٹولے نے جارحانہ لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہے، پی ٹی آئی والوں کی اندر سے خواہش ہے بانی جیل میں رہیں، یہ لوگ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کے مزے لیتے رہنا چاہتے ہیں۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ یہ لوگ ایک دو ایسا بیان دیتے ہیں کہ بانی تک اطلاع پہنچے میرے بندے کھڑے ہیں، بیانات دینے والے پی ٹی آئی رہنماؤں سے متعلق چیزیں جلد منظرعام پر آئیں گی، دنیا کی جنگیں بھی آخر میں مذاکرات کے ذریعے ہی ختم ہوتی ہیں، ہمارے ملک میں پونے 6 کروڑ نوجوان ہیں ذہن سازی مثبت کرنی ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں