Faizabad sit-inفیض آباد دھرنا، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کوتوہین عدالت کانوٹس جاری
The news is by your side.

Advertisement

فیض آباد دھرنا، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کوتوہین عدالت کانوٹس جاری

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا سے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کہا حکومت کی ناکامی ہے ریاست ناکام ہونے نہیں دینگے ۔

تفصیلات کے مطابق حکومت عدالتی ڈیڈ لائن کے باوجود فیض آباد دھرنا ختم کرانے میں ناکام ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں دھرنے سے متعلق سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی، عدالت نےحکم عدولی پر وزیر داخلہ احسن اقبال کوتوہین عدالت کانوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ وزیرداخلہ پیر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، حکومت کی ناکامی ہے ریاست ناکام ہونے نہیں دینگے ۔ وزیراعظم بھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے، سات لاکھ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

سماعت کے دوران چیف کمشنر نے بیان میں کہا دھرنا روکنے پر خونریزی کا خدشہ ہے، اس لئےآپریشن نہیں کیا۔

جس پر عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کس نے آپ کو عدالتی حکم پرعملدر آمد سے روکا، جس پر چیف کمشنر نے کہا وزیرداخلہ نے ہائیکورٹ کے حکم پر عمل سے روکا۔

عدالت نے کہا آپ بیوروکریٹک جواب نہ دیں، آپ کو بھی جیل بھیجنے کا آڈردے سکتا ہوں، ڈبل گیم نہ کھیلا جائے، آپ نے اقبال جرم کیا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، رپورٹ میں نامزد ملزمان فرارہوئے تو ذمہ دارسیکریٹری داخلہ ہونگے۔

بعد ازاں عدالت نے راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ انتیس نومبر کی بجائےستائیس نومبر کوطلب کرلی۔

عدالت اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ سیدھےفائرنگ نہ کریں آنسوگیس کااستعمال کریں، چیف کمشنر دھرنے والوں کوپریڈ گراؤنڈمنتقل ہونےپرقائل کریں، عدالتی حکم نہ ہوتاتوادارے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہتے۔


مزید پڑھیں : اسلام آباد دھرنا: وزیر داخلہ کی عدالت سے مزید 2 دن کی مہلت طلب


یاد رہے گذشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزرات داخلہ کوایک بارپھر دھرنا ختم کرانے کی ہدایت کی تھی، جس پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت لیا تھا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد میں دھرنے کا 19 واں روز ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود حکومت دھرنے والوں کو نہ ہٹا سکی، مذاکرات کےکئی دور ناکام ہوئے جبکہ علما و مشائخ کا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا۔

دھرنے کے شرکاء وزیر قانون کےاستعفٰی سے کم پر تیارنہیں جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بنا ثبوت کے وزیر سے استعفٰی نہیں لے سکتے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں