جعلی اکاؤنٹس کیس، 54 ارب روپے بے نامی کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے ادھرادھر گئے، رپورٹ
The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیس، 54 ارب روپے بے نامی کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے ادھرادھر گئے، رپورٹ

اسلام آباد : جےآئی ٹی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سنسنی خیزانکشافات پرمبنی دوسری پیشرفت رپورٹ میں کہا ہے کہ چون ارب بےنامی کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے ادھر ادھر گئے، سندھ حکومت کی جانب سے ریکارڈ نہ دینے کی شکایت پرچیف جسٹس نے کہا میں خودکراچی آؤں گا، دیکھتاہوں ریکارڈکیسےنہیں دیتے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نےدوسری پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا تفتیش جاری ہے یا مکمل ہوگئی؟ جس پر جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے عدالت کو بتایا تفتیش جاری ہے، معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے، جسٹس ثاقب نثار نے کہا آپ کہہ رہے ہیں یہ اس سے بڑا فراڈ ہے؟

احسان صادق بہت سےافراداورکمپنیاں فراڈمیں شامل ہیں، 54 ارب بے نامی کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے ادھر ادھر گئے، مجموعی طورپر96 بے نامی کمپنیاں ہیں، جس میں 26 بے نامی کمپنیاں صرف اومنی گروپ کی ہیں، کمپنیاں اورانفرادی لوگ 600 کے قریب ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا چور جہاں پہلے چوری کا پیسہ چھپائے گا وہ اس کا سراغ تونہیں چھوڑے گا، کیا آپ اس رقم تک پہنچ جائیں گے، جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا جی کوشش کررہےہیں، حکومت سندھ تعاون نہیں کررہی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کون ساافسرتعاون نہیں کررہا، جو تفصیل آپ نے مانگی ہے کیا وہ تحریری طورپرمانگی ہے، اے جی سندھ نے بتایا کہ یہ 2008 سے اب تک کے کنٹریکٹ کی تفصیل مانگ رہےہیں، ایک کمرہ بھی پینٹ ہوا ہے تو اس کی بھی تفصیل مانگ رہے ہیں، 46 لوگوں اور کمپنیوں کو صرف 6 کنٹریکٹ دیے، ہمیں طویل ایکسرسائزکرنی پڑرہی ہے۔

خودکراچی آؤں گا،  دیکھتاہوں ریکارڈ کیسےنہیں دیتے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا میں خودکراچی آؤں گا، چھبیس ستائیس آٹائیس کوکراچی میں دیکھتاہوں ریکارڈ کیسے نہیں دیتے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت تمام دستاویز نہیں دے گی، جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہم اس دن دیکھ لیں گے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ انور مجید کو 1999 میں امریکامیں دل کااسٹنٹ ڈالا گیا ، جس پر چیف جسٹس دل کی تکلیف ہے تو راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جائیں، وکیل صفائی نے سوال کیا کیاوجہ ہے 77 سال کےشخص کی میڈیکل رپورٹ پر یقین نہیں ؟ تو چیف جسٹس نے کہا کیوں یقین کریں وہ شخص اربوں کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔

چیف جسٹس نے کہا سندھ کے کسی ڈاکٹرکی رپورٹ پراعتبارنہیں، ایسے شخص کی میڈیکل رپورٹ پر کیوں یقین کریں جو اربوں کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، جس پر وکیل صفائی نے کہا عدالتی حکم کی وجہ سے ان کا علاج نہیں کیا جا رہا ، ان کو اسپتال منتقل کیا جائے۔

انور مجید کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد

اعلی عدالت نے انور مجید کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی، چیف جسٹس نے وکیل صفائی سے مکالمے میں کہا اندر ہوں تو کمبل میں لیٹے رہتے ہیں ،باہرہو ں تو دفتر کے کام کرتے ہیں، سندھ حکومت والے ان کا زیادہ خیال رکھیں گے۔ سندھ کے کسی ڈاکٹرکی رپورٹ پراعتبارنہیں، ایسے شخص کی میڈیکل رپورٹ پر کیوں یقین کریں جو اربوں کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا عبد الغنی مجید صبح سپرنٹنڈنٹ کے کمرے اور رات کواس کے گھر میں ہوتےہیں، چھبیس اکتوبرکو آئی جی سندھ بھی عدالت میں حاضرہوں۔

وکلا نے اومنی گروپ کے بینک اکاؤنٹ کھولنے کی استدعا کی ۔ نیشنل بینک کے وکیل بتایا اومنی گروپ کی تین شوگرملزاوررائس ملزبند ہے، اومنی گروپ نے23ارب روپےبینک کو دینے ہیں، جس پرچیف جسٹس نے کہا اومنی گروپ کونوٹس جاری کریں ، اس وقت تک ملیں نہیں کھولیں گے جب تک اکیانوے ارب کا پتہ نہیں چلتا، ملیں عدالت کی زیر نگرانی چلیں گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انور مجید کو بہترین علاج مہیا کریں گے، انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پاس ایم ایچ میں داخل کرا دیتے ہیں، کھرب پتی ہیں،50،50کنال کے سو گھر خرید سکتے ہیں ، اجازت دوں تو چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب باہر چلے جائیں گے، اتھارٹی کو ٹھیک سے استعمال نہ کرنے والے کا اعتبار نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا انور مجید کا اسلام آباد سے علاج ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ شاہد حامد26 تاریخ کوآپ کی درخواست دیکھیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں