The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیسز میں تحقیقات، آصف زرداری نے نیب میں بیان ریکارڈ کرادیا

اسلام آباد : سابق صدر آصف زرداری نے 8 ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن اور اوپل 225 میں ایک ارب روپے رشوت لینے کے الزام پر نیب کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرادیا۔

تفصیلات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری 2 انکوائریز میں طلبی پر نیب اولڈ ہیڈکواٹرز پہنچ گئے ، آصف زرداری کو مشکوک ٹرانزیکشن اور  اوپل 225 انکوائریز میں طلب کیا گیا ہے۔

آصف زرداری سےآٹھ ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن اور زرداری گروپ پراوپل ٹوٹوفائیومشترکہ منصوبےمیں ایک ارب روپےرشوت لینے پر ڈیڑھ گھنٹہ تک تفتیش کی گئی.سابق صدر نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا اور روانہ ہوگئے۔

نیب طلبی نوٹس میں کہا گیا تھا آصف زرداری نیب اولڈ ہیڈکواٹرز میں صبح 11بجے نیب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کےسامنے پیش ہوں اور 8 ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن انکوائری میں بیان دیں جبکہ زرداری اوپل 225 مشترکہ منصوبے میں ایک ارب کےرشوت کےالزام پر بھی جواب دیں۔

مزید پڑھیں :  آصف زرداری کی تمام کیسز میں عبوری ضمانت میں توسیع

یاد رہے گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف جاری 6 انکوئریز اور کیسز میں عبوری ضمانت منظور کرلی تھی، جن میں جعلی اکاﺅنٹس کیس، پارک لین کیس، مشکوک ٹرانزیکشن انکوائری، اوپل 225 انکوئری اور توشہ خانہ ویکل انکوئری سمیت دیگر شامل تھے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا نئے نئے طلبی کے نوٹسز آرہے ہیں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا لگتا ہے طلبی اور ضمانتوں کا سیلاب آرہا ہے۔

عدالت ع نے اوپل 225 انکوائری اور پارک لین کیس میں آصف زرداری کی 12 جون تک عبوری ضمانت منظور کی جبکہ توشہ خانہ ویکل انکوائری میں سابق صدر کی 20 جون تک عبوری ضمانت میں توسیع کردی گئی اور ہریش کمپنی کیس میں ان کی ضمانت میں 29 مئی تک توسیع کردی گئی۔

علاوہ ازیں پارک لین ریفرنس میں انہیں 12 جون تک عبوری ضمانت میں توسیع جبکہ میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری کی ضمانت میں 30 مئی تک توسیع کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں