The news is by your side.

Advertisement

یو ٹیوب چینل کی مقبولیت کے لیے جعلی بینک ڈکیتیاں کرنے والے جڑواں بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا؟

کیلی فورنیا: امریکی ریاست میں اپنے یو ٹیوب چینل کو مقبول بنانے کے لیے جڑواں بھائیوں نے جعلی بینک ڈکیتیاں کیں، تاہم اس کا نتیجہ برا نکل آیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے اِروِن، سانتا آنا میں دو جڑواں بھائیوں نے اپنے مقبول یوٹیوب چینل کی مزید شہرت کے لیے جعلی بینک ڈکیتیاں کیں، جس پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ کر دیا۔

کیس کے استغاثہ نے بدھ کو بتایا کہ ایک مشہور یوٹیوب چینل والے جڑواں بھائیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے ارون میں جعلی بینک ڈکیتی کی تھی، جس کی وجہ سے پولیس نے ایک بے گناہ اوبر ڈرائیور کو بندوق کی نوک پر رکھ لیا تھا۔

اورنج کاؤنٹی ڈسٹرک اٹارنی کے آفس نے میڈیا کو بتایا کہ ارون کے رہائشی 23 سالہ جڑواں بھائی ایلن اور ایلکس اسٹوکس کو جھوٹی قید اور جعلی ہنگامی ایمرجنسی کال کرنے کے دو سنگین فرد جرم کا سامنا ہے۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی نے کہا کہ ان بھائیوں نے انٹرنیٹ پر شہرت حاصل کرنے کے چکر میں عوام اور پولیس اہل کاروں کو خطرے میں ڈالا۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ بھائیوں نے 15 اکتوبر 2019 کو مبینہ طور پر 2 بوگس بینک ڈکیتیاں فلمانے کی کوشش کی تھی، تفتیش کاروں نے بتایا کہ دونوں بھائی سیاہ لباس پہن کر گھوم رہے تھے، انھوں نے اسکی ماسک بھی پہنا ہوا تھا اور ان کے پاس مخصوص بیگز بھی تھے جن میں رقم پڑی ہوئی تھی، اور وہ ایسا ظاہر کر رہے تھے جیسے انھوں نے بینک لوٹا ہو، اس دوران ایک شخص ان کی ویڈیو بناتا رہا۔

حکام کا کہنا تھا کہ جب دونوں بھائیوں نے ڈھائی بجے دن میں اوبر کو کال کی، تو ڈرائیور نے انھیں لینے سے انکار کر دیا کیوں کہ وہ اس ڈرامے سے بے خبر تھا، یہ واقعات دیکھنے والے ایک راہگیر نے بتایا کہ اسٹوکس برادرز ایک ڈرائیور کو ‘کارجیک’ (گاڑی چھیننا) کر رہے تھے۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی کے آفس کے مطابق پولیس جب موقع پر پہنچی تو اہل کاروں نے کار کے ڈرائیور پر پستول تان کر اسے باہر نکلنے کو کہا، تاہم بعد میں جب پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ اس ڈرامے میں شریک نہیں تھا تو پولیس نے اسے چھوڑ دیا، پولیس نے اسٹاکس برادرز کو بھی تنبیہ کر کے جانے دیا۔

تاہم محض 4 گھنٹوں کے بعد دونوں بھائیوں نے ارون کے ایک اور علاقے میں یہی ڈراما رچایا، پولیس کو ایک بار پھر بینک ڈکیتی کی جعلی ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں