بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

مصنوعی ذہانت سے تیار جعلی ویڈیوز اور تصاویر کی شناخت کرنا آسان

اشتہار

حیرت انگیز

آج کل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز ان‍ٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں جنہیں مختلف منفی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایسی کئی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر میں وائرل ہوئی ہیں، ان جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو کیسے پہچانا جائے؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔

زیر نظر مضمون میں چند ایسی تجاویز پیش کی جارہی ہیں جن پر عمل کرکے آپ باآسانی ایسی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا حقیقی تصاویر سے موازنہ کرکے فرق محسوس کرسکتے ہیں۔

- Advertisement -

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی تصویر خصوصاً انسانی تصویر میں اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو زوم کرکے غور سے دیکھیں کہ کہیں انگلیوں کی تعداد زیادہ یا کم تو نہیں اس کے علاوہ چہرے کے اعضاء کی بناوٹ میں کوئی جھول یا لچک تو نظر نہیں آرہا۔

تصویر

لیٹنٹ اسپیس ایڈوائزری کے بانی اور جنریٹو اے آئی کے سرکردہ ماہر ہینری ایجڈر نے بتایا کہ تصویر میں شخص کے سائے اور روشنیوں میں ہم آہنگی کو بھی مد نظر رکھیں، اکثر تصاویر میں نظر آنے والا شخص واضح فوکس میں ہوتا ہے اور کافی حد تک اصلی دکھائی دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو کو دیکھتے ہوئے اس بات پر گہری نگاہ رکھیں کہ اس میں موجود افراد کی آنکھوں کی حرکات و سکنات اور خصوصاً پلک جھپکنا کہیں غیر فطری تو نہیں کیونکہ اس طرح کی اے آئی ویڈیوز میں عموماً چہرے اور جلد پر ایک عجیب و غریب سی چمک نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح عینک کے غیرمتوازن لینس کو بھی دیکھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں تضادات دکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہاتھ بہت چھوٹے یا انگلیاں بہت لمبی ہوسکتی ہیں یا سر اور پاؤں باقی جسم سے میل نہیں کھاتے۔

روسی صدر

گزشتہ دنوں وائرل ہونے والی ایک جعلی تصویر میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی گرفتاری یا جنرل موٹرز کی سی ای او میری بارا اور ایلون مسک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کئی مثالوں میں سے فقط دو ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ تصویر میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی تصویر ہے۔

ایلون مسک

کسی تصویر کا پس منظر اکثر یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ آیا اس میں ہیرا پھیری کی گئی ہے یا نہیں۔ کچھ کیسز میں اے آئی پروگرامز لوگوں اور اشیا کو دو بار استعمال کرتے ہیں اس لیے اے آئی سے بنی تصاویر کا پس منظر دھندلا ہو سکتا ہے۔

اے آئی کی مدد سے بنائی گئی صرف لوگوں کی تصاویر ہی غلط فہمی کا باعث نہیں بنتیں بلکہ ایسے واقعات اور حادثات کی تصاویر بھی سامنے آئے ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں