The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں قید پاکستانی شہری کا ماورائے عدالت قتل، اہل خانہ کا میت حوالگی کا مطالبہ

راولاکوٹ: بھارتی جیل میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے پاکستانی شہری کے اہل خانہ نے بھارت سے میت حوالگی کا مطالبہ کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایک روز قبل مقبوضہ کشمیر کے جیل میں 16 سال سے قید پاکستانی شہری ضیا مصطفیٰ کا انتقال ہوگیا تھا، جس پر دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا تھا۔

اب مقتول شہری کے اہل خانہ نے میت حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، اس حوالے سے سماجی رہنما انصار برنی نے ضیامصطفیٰ کی میت کے حصول کے لیےکوششیں شروع کردیں۔

اہل خانہ نے بتایا کہ ضیامصطفیٰ16سال سےبھارتی جیل میں قیدتھا جبکہ بھارتی عدالتوں نے ضیامصطفیٰ کی رہائی کافیصلہ ہوچکا تھا۔

اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نےجعلی مقابلےمیں ضیامصطفیٰ کو مقبوضہ کشمیرمیں شہید کیا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی جیل میں‌ قید پاکستانی کا ماورائے عدالت قتل، بھارت سے احتجاج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حراست میں قید پاکستانی شہری ضیا مصطفیٰ کے ماورائے عدالت قتل پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق  مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی قیدی کے قتل پر بھارت سےوضاحت طلب کی اور ہلاکت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامورکو بتایا گیا کہ ضیامصطفیٰ2003سے مقبوضہ کشمیر کی جیل میں قیدتھا، جس کی ایک روز قبل ماورائے عدالت ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی ناظم الامور سے بھارت میں قید پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

 پاکستان نے بھارت پر واضح کیا تھا کہ ماورائے عدالت قتل کا معاملہ پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے متعدد بار پیش آچکا ہے، ماضی میں بھی پاکستانی قیدیوں کو جیلوں میں قتل کیا گیا۔ پاکستان نے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے فوری تحقیقات کرنے اور  ذمہ داروں کا تعین کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں