The news is by your side.

Advertisement

وہ خیالی جانور جنھیں‌ ہزار ہا‌ برس تک حقیقی سمجھا جاتا رہا

ازمنۂ وسطیٰ میں‌ حیوانوں کے متعلق عجیب و غریب خیالات پائے جاتے تھے جن پر سب یقین رکھتے تھے۔ سب سے پہلے تو ایسے جانور تھے جن کا کوئی وجود ہی نہیں‌ تھا، لیکن اس کے باوجود ہزاروں سال تک انہیں واقعی اور حقیقی مانا جاتا رہا۔ مثال کے طور پر ققنس۔

یہ پرندہ اپنی قسم کا واحد پرندہ تھا اور اس کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا تھا کہ وہ عرب کے ریگستانوں میں ‌رہتا ہے اور اس کی عمر پانچ سے چھے سو برس تک ہوتی ہے۔ جب اس پرندہ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی موت کا وقت آپہنچا ہے تو ایک آتش کدہ بناتا ہے اور اس میں جل مرتا ہے۔

پھر اس کی راکھ سے ایک نیا ققنس پیدا ہوتا ہے اور اس طرح وہ ازسرِ نو اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ اس روایتی پرندہ کو آگ کا بیمہ کرنے والی ایک عظیم کمپنی کے نام اور علامت کے طور پر آج بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔

ایک فوقُ الفطرت گھوڑا بھی تھا۔ ایسا گھوڑا جس کے ماتھے پر ایک لمبا اور خمیدہ سینگ اگا ہوا تھا۔ اس گھوڑے کو کبھی کسی نے دیکھا نہیں تھا، لیکن آج بھی برطانیہ کے ایک خاندان کے نشان کے طور پر یہ گھوڑا مسرت سے دھما چوکڑی مچا رہا ہے۔

ایک اور دیو مالائی جانور افعی بھی تھا۔ اس ہولناک جانور کے متعلق مشہور تھا کہ وہ جس چیز کو دیکھتا ہے اسے جلا کر بھسم کر دیتا ہے۔ ان جانوروں‌ میں سب سے زیادہ حیرت ناک جانور اسپ کرکی تھا جس کا سر اور گردن دیو قد عقاب کی سی تھی اور جسم گھوڑے کا سا تھا۔ یعنی دُم اور ٹانگیں سب گھوڑے کی تھیں لیکن کھروں کی جگہ اس کے بڑے بڑے پنجے تھے۔

ان جانوروں اور دوسرے تخیلی حیوانوں کے علاوہ یورپ کے لوگ حقیقی جانوروں کے متعلق بھی عجیب و غریب باتوں پر یقین رکھتے تھے۔ مثلاً چیتے کے بارے میں‌ مشہور تھا کہ اس کے جسم میں‌ ایک دلآویز خوش بُو ہوتی ہے۔ ایک بطخ کے متعلق جس کے کڑکڑانے کی آواز قطعاً بھلی معلوم نہیں ہوتی، یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مرتے وقت وہ نہایت دلآویز گیت گاتی ہے۔ جو آدمی مرتے وقت آخری اور الوداعی جدوجہد کرتا ہے اس کے متعلق ‘بطخ کے گیت’ کی اصطلاح آج بھی استعمال ہوتی ہے۔

دنیا میں پیلیکن (ایک آبی پرند) شاید سب سے بدصورت جانور ہے اور آج ہم اس جانور کی تصویروں کو پرانے کلیسوں کی زیبائشوں میں خاص طور سے رنگین شیشوں پر دیکھ کر بہت حیران ہوتے ہیں جن میں‌ اسے آشیانے میں اپنے بچّوں کے درمیان پیش کیا گیا ہے۔ اس بات کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ ازمنہ وسطیٰ میں‌ ہر شخص یہ یقین رکھتا تھا کہ مادہ پیلیکن اپنے بچّوں کو اپنا لہو، غذا کے طور پر دینے کے لیے اپنی چونچ اپنے سینے میں بھونک لیتی تھی۔

کسی کو یہ خیال نہ گزرا کہ جس جانور کی اتنی لمبی چونچ ہو اس کے لیے اپنی لمبی چونچ کو سینے میں‌ بھونکنا انتہائی دشوار ہے اور کوئی نٹ ہی ایسا کرتب دکھا سکتا ہے، مگر اپنے اس عقیدے کی بدولت لوگ پیلیکن کو حضرتِ مسیح کی علامت کے طور پر استعمال کرتے تھے جنھوں نے بنی نوع انسان کے لیے اپنا خون بہایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جانور ازمنہ وسطیٰ کے کلیساؤں میں اکثر ملتا ہے۔

ایک ہزار سال تک کسی کے ذہن میں‌ اس قسم کے سوال نہ ابھرے۔ کسی نے اسپِ کرکی کو دیکھا ہے یا کسی نے کیا واقعی دَم توڑتی ہوئی بطخ کو گیت گاتے سنا ہے۔ لہٰذا یہ اعتقاد ایک صدی سے دوسری صدی تک منتقل ہوتے رہے اور کسی نے اپنے معاشرے سے ان کے ثبوت نہیں‌ مانگے۔

(کتاب ‘دنیا کے مشہور سائنس داں، سے اقتباس جو اردو اکیڈمی سندھ، کراچی کی مطبع ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں