The news is by your side.

Advertisement

جب ایک مشہور شاعر شدید بارش میں گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے

اردو ادب میں اخترُ الایمان کو ان کی نظم گوئی اور اس صنفِ سخن کو تازگی اور جدّت کے ساتھ نئے اور منفرد تجربات سے سجانے اور نکھارنے والے شاعر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ انھیں‌ ایک انسان دوست شخص بھی کہا جاتا ہے جس نے ذاتی زندگی میں بہت مشکلات اور کڑے وقت کا سامنا کیا، لیکن دوسروں کے مددگار اور معاون رہے۔ ان کی اسی خوبی سے متعلق ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے۔

“اخترُ الایمان ذاتی طور پر نہایت شریف، رقیقُ القلب اور ہم درد انسان تھے۔ انھوں نے زندگی کا تلخ ذائقہ بچپن سے چکھا تھا، اس لیے ان کے دل میں ضرورت مندوں کی امداد کرنے کا جذبہ تھا۔

میں اخترُ الایمان کی ایک بات کبھی نہیں بھولتا۔ مجھے اپنے کالج میں فیس جمع کرنی تھی اور پیسے کا کہیں سے انتظام نہیں ہوسکا تھا۔ میں اخترُ الایمان کے پاس باندرہ گیا، ان کے پاس بھی گھر میں روپے نہیں تھے، مگر بینک میں تھے۔ وہ میری خاطر شدید بارش میں اپنے گھر باندرہ سے میرے ساتھ نکلے اور فلورا فاؤنٹین آئے۔ اپنے بینک سے روپیہ نکالا اور میری ضرورت پوری کی۔

اخترُ الایمان کی پوری زندگی ثابت قدمی، خود اعتمادی، قناعت اور انسان دوستی سے عبارت ہے۔ ان کی نظمیں ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہیں۔ ان کا رنگِ سخن اور ان کا لب و لہجہ کسی قدیم شاعر کی صدائے باز گشت نہ تھا اور نہ ان کے بعد کوئی ان کے رنگ و آہنگ میں لب کشائی کرسکا۔

ان سے ملاقات کا شوق ہو تو ان کی نظم ’’ایک لڑکا‘‘ پڑھ لیجیے جس کے متعلق سجاد ظہیر نے پاکستان سے واپس آنے پر کہا تھا کہ اردو کا گزشتہ دس سال کا ادب ناکارہ ہے، سوائے ایک نظم…’’ایک لڑکا‘‘ کے۔”

(ترقّی پسند تحریک سے وابستہ اردو کے معروف شاعر رفعت سروش کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں