شمسی ایئربیس پر امریکی جہاز آتے تھے تو کیا وہاں امیگریشن کاؤنٹر تھا؟ فرحت اللہ farhat ullah baber
The news is by your side.

Advertisement

شمسی ایئربیس پر امریکی جہاز آتے تھے تو کیا وہاں امیگریشن کاؤنٹر تھا؟ فرحت اللہ

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ جب کسی کو ویزا جاری ہوتا ہے کہ ڈیفنس اتاشی دستخط کرتا ہے، سیکیورٹی اداروں کی مرضی شامل ہوتی ہے، شمسی ایئربیس پر جب امریکی جہاز آرہے تھے تو کیا وہاں ایف آئی اے اور امیگریشن کاؤنٹر تھا؟ اور کتنے امریکی ویزا کے بغیر آئے؟ تحقیقات کی جائیں تو پتا چل جائے گا کہ کتنے امریکی وہاں آئے اور کتنے حقانی نے ویزے دیے۔

اے آر وائی نیوز کی اینکر ماریہ میمن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ امریکیی افراد کو ویزا میں تاخیر ہونے پر امریکا نے درخواست کی کہ تاخیر کا سلسلہ کم کیا جائے جس پر فیصلہ ہوا تھا کہ ویزے جاری کرنے میں جلدی کی جائے، چنانچہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکا میں تعینات سفیر حسین حقانی کو اختیار دیا کہ وہ وہاں پر مقامی سطح پر ویزے جاری کردیں۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اجازت نامہ میں شرائط رکھی تھیں جو کہ خط میں بھی واضح ہیں کہ وہاں کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی درخواست ہو، دوسرا جس مقصد کے لیے اپلائی کرے وہ واضح ہو، تیسرا سفارت خانے کے اندر جو وزارت کے نمائندے ہیں ان کی مشاورت ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سمجھا جارہا ہے کہ ویزوں کے اجرا میں کوئی غیر قانونی کام ہوا تو یقیناً تحقیقات کی جائیں اور یہ تحقیقات اس لیے ضروری ہیں کہ تمام ویزوں کا تعلق اسامہ بن لادن سے جوڑا جارہا ہے۔

شمسی ایئربیس پر امریکی جہاز اترتے تھے تو کیا وہاں امیگریشن کاؤنٹر تھا؟

رہنما پی پی نے کہا کہ اگر تحقیقات کی جائیں تو ثابت ہوجائے گا کہ کیا شمسی ایئربیس پر جب امریکی جہاز آرہے تھے تو وہاں کیا ایف آئی اے اور امیگریشن کاؤنٹر تھا؟ اور کتنے امریکی ویزا کے بغیر آئے اور یہ بھی پتا کرلیا جائے کہ حسین حقانی نے بغیر اجازت کتنے ویزا دیے۔

ایک سوال پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ سفیر جب ویزے جاری کرتا ہے کہ تو متعلقہ وزارتوں سے بھی پوچھا جاتا ہے، ان ہی وزارتوں کے نمائندے سفارت خانے میں بھی کام کرتے ہیں،جتنے بھی ویزے جاری ہوئے وہ سفارت خانے میں موجود ڈیفنس اتاشی کی مرضی اور دستخط سے جاری ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے اداروں کی مرضی یہ ویزے جاری ہوئے اگر نہیں تو یہ ثابت کردیں پھر جو مجرم بنتا ہے اسے سزا دیں۔

انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں جو ایبٹ آباد کمیشن بنا ہے اس میں ویزا کا ایشو ایڈریس ہوا ہے آپ اس رپورٹ کو سامنے لے آئیں پتا چل جائے کہ ویزا کیسے جاری ہوئے اور اسامہ بن لادن وہاں کیسے پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: اسامہ بن لادن کنٹونمنٹ میں کیسے رہا ؟ ‘ فرحت اللہ بابر کا سوال

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں