The news is by your side.

Advertisement

کسانوں کا چند گھنٹوں کے لیے بھارت بند کرنے کا اعلان

نئی دہلی: مودی سرکار کے ظالمانہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج پر مجبور بھارتی کسانوں نے کل 4 گھنٹوں کے لیے پورا بھارت بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں احتجاج کرنے والے کسانوں نے احتجاج تیز کرنے کی حکمت عملی بناتے ہوئے 18 فروری کو چار گھنٹے تک ملک گیر ’ریل روکو‘ اقدام کا اعلان کیا ہے۔ کل جمعرات کو کسان بھارت بھر میں ٹرینیں روک کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

کسان مورچہ کا کہنا ہے انھوں نے ایک ہفتے پر مشتمل نئی اور تیز تر احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دی ہے، جس کے تحت کل دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک ملک بھر میں ریل گاڑیاں روک دی جائیں گی۔

بھارتی سرکار نے چند دن قبل ماحولیات کی کارکن دیشا راوی کو گرفتار کیا تھا، دیشا کسانوں کے لیے ٹول کٹ بناتی تھیں، ان کی رہائی کے لیے بھی سرکار کے خلاف مظاہروں میں تیزی آ گئی ہے۔

یاد رہے کہ متنازع زرعی قوانین کے خلاف دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ 26 نومبر سے جاری ہے، ان مظاہروں میں لاکھوں کسان شریک ہو چکے ہیں۔

بھارتی حکومت اور کسانوں کے درمیان تنازع؟

مودی سرکار نے گزشت برس ستمبر میں 3 نئے زرعی قوانین منظور کیے تھے، ان قوانین کے تحت اناج کی سرکاری منڈیوں کو نجی تاجروں کے لیے کھول دیا گیا جب کہ اناج کی ایک مقررہ قیمت کی سرکاری ضمانت کے نظام کو ختم کر دیا گیا۔ اس کی جگہ کسانوں کو اپنا اناج کہیں بھی فروخت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کنٹریکٹ کھیتی کا نظام بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت تاجر اور کمپنیاں کسانوں سے ان کی آئندہ فصل کے بارے میں پیشگی سمجھوتا کر سکتی ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

ان قوانین کے حوالے سے کسانوں کو خدشہ ہے کہ سرکاری منڈیوں کی نج کاری سے تاجروں اور بڑے بڑے صنعت کاروں کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور مقررہ قیمت کی سرکاری صمانت نہ ہونے کے سبب انھیں اپنی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کسانوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ بڑے بڑے صنعت کار بہت جلد ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیں گے، دوسری جانب مودی سرکار کا مؤقف ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو کھلی منڈی حاصل ہو جائے گی جس سے وہ اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کر سکیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں