site
stats
ماحولیات

حشیش کی جگہ کافی اگانے والا کسان

کیا آپ جانتے ہیں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں حشیش اگائی جاتی ہے اور یہ ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش ہے؟

حشیش یا افیون کی فصل اگانے کے لیے کھلی جگہ چاہیئے اور اس کے لیے شہروں سے دور واقع جنگلات کو عموماً کاٹ دیا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں حشیش اگائی جاتی ہے۔

لیکن تھائی لینڈ کے ایک شہری سومسک سرپم تھونگ نے اپنے گاؤں میں واقع جنگلات کی بحالی کے لیے حشیش کی فصل کو ختم کردیا اور اس کی جگہ کافی اگانی شروع کردی۔

c9

c6

تھائی صوبے چانگ مائی کا رہائشی سومسک ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور وہ صرف 13 سال کی عمر میں کمانے کے لیے شہر چلا گیا۔ کافی عرصہ بعد جب وہ اپنے آبائی علاقہ میں واپس آیا تو اس کے گاؤں سے جنگلات تقریباً ختم ہوچکے تھے۔

جنگلات ختم ہونے کے باعث زمینی کٹاؤ کا عمل جاری تھا اور بارش کے موسم میں مٹی پانی کو جذب نہیں کرسکتی تھی جس کے باعث پانی جمع ہو کر سیلاب کی شکل اختیار کرلیتا تھا۔

یہ صورتحال ہر سال پیش آتی تھی اور گاؤں والوں کو سیلاب کے ہاتھوں شدید مالی نقصانات اٹھانے پڑتے تھے۔

سومسک نے اپنے گاؤں کے جنگلات کی بحالی کا بیڑا ٹھایا اور اس کے لیے سب سے پہلے حشیش کی فصل کو ختم کیا۔ اس کے بعد اس نے نامیاتی کافی اگانی شروع کردی۔

coffee-1

c5

واضح رہے کہ آرگینک یا نامیاتی فصل وہ ہوتی ہے جو مصنوعی کھاد اور کیمیائی مواد کے بغیر اگائی جاتی ہے۔

کافی کے ساتھ سومسک نے دیگر پودے بھی اگانے شروع کر دیے اور آہستہ آہستہ گاؤں میں پھر سے جنگلات کا رقبہ بڑھنے لگا۔ چونکہ کافی کی فصل درختوں کے ساتھ بھی اگ سکتی ہے لہٰذا اس نے باآسانی کافی کے ساتھ دیگر درخت اگانا شروع کردیے۔

c4

سومسک نے بتایا کہ اس کی کافی خالص نامیاتی ہے اور اس کی پیداوار کے لیے وہ مصنوعی کھاد یا کیڑے مار ادویات کا استعمال نہیں کرتا۔

اس کے مطابق فصل سے کیڑے ختم کرنے کے لیے وہ مخصوص طریقہ سے تربیت دیے گئے پرندوں کو فصل میں چھوڑ دیتا ہے جس کے بعد وہ پرندے صرف کیڑوں کو کھاتے ہیں اور کافی کے پتوں کو چھوتے بھی نہیں۔

c3

c2

c7

سومسک کا یہ قدم اس کے گاؤں کے لیے خوشحالی لایا ہے اور گاؤں کے کئی خاندان اب اس روزگار سے وابستہ ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں وہ آس پاس کے دیگر گاؤں دیہاتوں کو بھی اس سلسلے میں معاونت دے رہے ہیں جس کے باعث اس علاقہ کی سیاحت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوارک و زراعت ایف اے او کے مطابق مختلف کاموں میں استعمال اور مختلف تعمیرات کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث 1990 سے 2010 کے درمیان تھائی لینڈ کے جنگلات کے کل رقبہ میں 3 فیصد کمی ہوچکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top