site
stats
اہم ترین

فاروق ستار کا الطاف حسین اور لندن قیادت سے لاتعلقی کا اعلان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ اب ہم کسی کو شک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ہم آج باضابطہ طور پر قائد ایم کیو ایم اور لندن سے لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں۔

Nine Zero sealed illegally, despite MQM's… by arynews

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم کے عارضی مرکز گھانچی ہال پی آئی بی سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے 23 اگست کو ایک لکیر کھینچ دی اور اب ہم  خود مختار ہیں، اب تمام الفاظ اور نیت سب ہمارے ہی ہوں گے کسی کو شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

لاتعلقی کے اعلان کے باوجود ہم پر پابندیاں‌عائد ہیں
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’مقتدر حلقوں نے اس بات کا تاثر دیا کہ اصل مسئلہ الطاف حسین کی اشتعال انگیز کی تقاریر ہیں جس پر پوری ایم کیو ایم نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کیا مگر اس کے باوجود ہم پر غیر اعلانیہ سیاسی پابندی تاحال عائد ہیں اور ہمارے دفاتر کو مسمار و سیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ہم نے ریاست کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی مگر اس کے باوجود ہمارے ذمہ داران، کارکنان کے بعد اب خواتین کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا جارہا ہے‘‘۔

ہماری گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے

رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ’’مجھ سمیت ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کو رینجرز نے دورانِ حراست پریس کلب کے باہر اور میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی مگر مجھ سمیت کوئی بھی شخص اُن خواتین اور مرد حملہ آوروں کو پہچان نہیں سکا، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہماری ذمہ دار خواتین کو حراست میں لے لیا جبکہ ہم نےاداروں سے سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے تمام افراد کی گرفتار کی یقین دہانی کروائی ہے‘‘۔

آپریشن کے خاتمے تک 4 تا5 ایم کیو ایم بن جائیں گی

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’’حکومت اور اداروں کی جانب سے کی گئی کارروائیوں پر کراچی کے عوام کو سخت تشویش ہے، آپ نے مہاجروں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے حقیقی اور پی ایس پی بنائی اور اب گرفتار کارکنان کو ایم کیو ایم لندن سیکریٹریٹ کا نام لے کر تین ایم کیو ایم بنا دی گئیں ہیں، اگر یہی سلسلہ رہا تو آپریشن کے خاتمے تک شاید چار یا 5 ایم کیو ایم وجود میں آجائیں گی مگر ان سب کے ساتھ مہاجروں کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ کیا اُن کے اتحاد کو تعمیر وطن میں شمار کیا جاتا ہے یا پھر ملک دشمن تصور کیا جاتا ہے۔

سیاسی خیرات نہیں بلکہ سیاسی اونر شپ مانگ رہے ہیں

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے مینڈیٹ کو دل سے تسلیم کریں اور ہم پر عائد غیر اعلانیہ سیاسی پابندی کو ختم کیا جائے، اتنی صفائیاں دینے کے باوجود اداروں اور حکومتوں کی جانب سے یہ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ آپریشن اور گرفتاریاں مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے کی جارہی ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہم سیاسی رعایت یا خیرات نہیں بلکہ سیاسی اونر شپ مانگ رہے ہیں، جب اعلان لاتعلقی کردیا گیا تو ہمیں بھی سیاسی سرگرمیاں بحال رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے‘‘۔

دفاتر کو مسمار کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے

انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ 2 روز میں ہمارے 20 سے زائد دفاتر غیر قانونی قرار دے کر مسمار اور 200 سے زائد دفاتر سیل کیے گئے جبکہ وہ دفاتر ہمیں مختلف اشخاص کی جانب سے عطیے کے طور پر دئیے گئے تھے۔ ہمارے وہ دفاتر مسمار اور سیل کیے جارہے ہیں جن میں متخب نمائندے بیٹھتے تھے اور اُن میں کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اور لائبریریاں موجود تھیں۔ ہمارے دفاتر 1980 سے موجود تھے اگر وہ غیر قانونی تھے تو مجھ سمیت تمام منتخب میئرز کراچی کو اُن پر کارروائی نہ کرنے پر پکڑیں‘‘۔

غیرقانونی دفاتر کی فہرست دی جائے، خود گرائیں گے

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’اگر ہمارے کوئی دفاتر غیر قانونی ہیں تو ان کی فہرست 30 اگست تک ہمارے حوالے کردی جائے، وسیم اختر میئر کراچی کا حلف اٹھاتے ہی سب سے پہلے شہر سے غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن کا اعلان کریں گے اور ہم سب سے پہلے اپنے غیر قانونی دفاتر کو مسمار کریں گے‘‘۔

نائن زیرو سمیت دیگر دفاتر کی سیل ختم کی جائے

رہنماء ایم کیو ایم پاکستان نے ارباب اختیار، وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ ’’ہم ملک میں امن کی خاطر ہر سطح تک جانے کے لیے تیار ہیں  اس لیے ہم نے دفاتر مسمار کرنے کی مذمت تک نہیں کی مگر ہمیں ایک موقع دیا جائے اور ہمیں آزمایا جائے، ہمارے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر سیل کیے گئے نائن زیرو سمیت تمام دفاتر کو کھولا جائے اور خواتین کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے اور ہمیں منفی سوچ کی طرف نہ دھکیلا جائے‘‘۔

پی ٹی وی او ر پارلیمںٹ پر حملہ ہوا، کون گرفتار ہوا؟خواجہ اظہار

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ’’پی ٹی وی اور جیو پر حملے میں ملوث کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟ انہوں نے مریم نواز شریف، آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری سے خواتین کارکنان کی گرفتار ی اور انہیں پابند سلاسل کرنے کا نوٹس لینے اور  اُن کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔

نعرے کی بنیاد پر جلد بازی میں فیصلہ نہ کیا جائے

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’اگر غلطی ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے ہوئی تو تلافی بھی ہم کریں گے، ہم اداروں اور حکومتوں کو لکھ کر دینے کے لیےتیار ہیں، خدا کے لیے نعرے کی بنیاد پر جلد بازی میں فیصلہ نہ کیا جائے کیونکہ پوری قوم مردہ باد کے نعرے کو مسترد کرچکے ہیں، ہم الٹی میٹم یا موقف نہیں دے رہے مگر اب وضاحتیں دینے کا وقت بھی نہیں ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top