فاروق ستار کا پی آئی بی رابطہ کمیٹی کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ:Farooq sattar
The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستار کا بہادر آباد رابطہ کمیٹی کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ(پاکستان) میں جاری کشیدگی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کو ایم کیو ایم کا نیا ڈپنی کنوینئر تسلیم کرنے پر فاروق ستار نے ایم کیو ایم بہادر آباد کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پارٹی تنازعات کے باعث دو حصوں میں منقسم ہونے والی ایم کیو ایم (پی آئی بی اور بہادر آباد) کے درمیان شدید لفظوں اور الزامات کی جنگ جاری ہے، جبکہ فاروق ستار جو کہ پی آئی بی میں موجود ایڈہاک کمیٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب قانونی جنگ لڑیں گے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن میں فاروق ستار کل رابطہ کمیٹی کی تحلیل کی درخواست دیں گے، جبکہ انہوں نے تنظیمی امورچلانےکیلئےایڈہاک کمیٹی بنانےکا بھی اعلان کردیا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل6جےکےتحت کارکنان کی جنرل اسمبلی کو اختیار حاصل ہے، کارکنان کی جنرل اسمبلی نےرابطہ کمیٹی کوتحلیل کردیاہے، کارکنان،ذمہ داران بہادرآبادسےسیاسی تنظیمی رشتےختم کردیں، پتنگ کےنشان ،ایم کیوایم کےنام پرکوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے خالد مقبول صدیقی ایم کیوایم کا نیا کنوینئرتسلیم کرلیا

دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ پارٹی کی کنوینر شپ کی تبدیلی کا باقاعدہ ایک طریقہ کار ہے، ریٹرننگ افسر نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر خالد مقبول صدیقی کے جاری کردہ ٹکٹ منظور کیے۔

ترجمان کے مطابق عہدوں کی تبدیلی کےلیے ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانا ہونگے اس کے بعد ہی الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گا، جبکہ صوبائی الیکشن کمیشن کے پاس نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

پارٹی میں اب نئےلوگوں کوسامنےلےکرآنا ہے‘ فاروق ستار

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خالد مقبول صدیقی کا بحیثیت ڈپٹی کنوینئر کا انتخاب ڈاکٹر فاروق ستار کو کنونیر کے عہدے سے سبکدوش کرنے کے بعد رابطہ کمیٹی کے ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا تھا، اور اب الیکشن کمیشن نے بھی انہیں ایم کیو ایم کا نیا ڈپٹی کنوینئر تسلم کر لیا ہے۔

بعدازاں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات اور اس کو تحلیل کرتے ہوئے نئے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ بہادرآباد والوں کے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں