site
stats
اہم ترین

رابطہ کمیٹی کا پی ایس پی سے انضمام کا انکار، فاروق ستار ناراض، مصطفیٰ کمال پُرامید

farooq sattar

کراچی : رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے غیر حاضر سربراہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار سپریم کور کمیٹی کی جانب سے پی ایس پی سے الحاق کے فیصلے کو نہ ماننے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے.

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن سے کراچی میں جاری سیاسی ہلچل اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور ہر لمحہ بدلتی ڈرامائی صورت حال نے سیاسی پنڈتوں کو بھی حیران کردیا ہے اور تازہ دم اطلاع ہے کہ اپنی رابطہ کمیٹی سے ناراض فاروق ستار اب سے کچھ دیر بار پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے.

پی ایس پی سے انضمام اور نام ، منشور و انتخابی نشان سے نالاں رابطہ کمیٹی کے اراکین نے اہم اجلاس طلب کرلیا جس میں فاروق ستار شریک نہیں ہوئے جس کے بعد اجلاس کی صدارت کنور نوید جمیل نے کی اور ایم کیو ایم پاکستان کا نام ، منشور اور انتخابی نشان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور میڈیا کو اس نئی پیشرفت سے بھی آگاہ کردیا.


 متحدہ اور پی ایس پی کا انتخابات ایک جماعت اور نشان سے لڑنے کا اعلان


رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے نالاں فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر ردعنل دیتے ہوئے کہا کہ میں ڈرامے بازی نہیں کرسکتا اور اب بھی پی ایس پی کے ساتھ انضمام کے فیصلے پر قائم ہوں اگر کوئی اس بات کو نہیں مانتا تو پھر ایم کیو ایم بھی وہی چلا لیں لیکن میں اب ایم کیو ایم نہیں چلاؤں گا اور پریس کانفرنس کے ذریعہ قوم کو آگاہ کروں گا.


ایم کیو ایم کا نام، منشور اور انتخابی نشان برقرار رہے گا، کنورنوید جمیل


دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان کے رابطہ کمیٹی کے اراکین سمیت اہم رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد پی آئی بی میں واقع فاروق ستار کے گھر پہنچ گئے ہیں لیکن ناراض سربراہ ایم کیوایم نے کسی سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنا موقف پریس کانفرنس کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا.

گزشتہ شب ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں سیاسی انضمام کا اعلان کرتے ہوئے ایک نام، منشور اور انتخابی نشان کے ساتھ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا تھا اور ایک دوسرے سے بغلگیر بھی ہوئے اور مٹھائیاں بھی کھلائیں.

 


یہ سیاسی اتحاد نہیں بلکہ دو جماعتوں کا انضمام ہے، مصطفیٰ کمال


تاہم گزشتہ شب ہی ایک رکن قومی اسمبلی علی عابدی نے اس فیصلے پر احتجاجآ استعفیٰ دینے اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اسی طرح بیرون ملک مقیم ڈپٹی کنونیر عامر خان نے انضمام کی خبر سن کر انا اللہ وانا علیہ راجعون پرھ کر کہا تھا کہ ہمیں صرف اتحاد سے آگاہ کیا گیا تھا انضمام کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی.

دوسری جانب اہم رہنما فیصل سبزواری نے بھی ایک ٹاک شو میں وضاحت کی تھی کہ انضمام کا فیصلہ نہیں ہوا ہے البتہ انتخابی اتحاد پر بات ہو سکتی ہے جب سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے ایم کیو ایم کے نام کو ختم کرنے کی تردید کی تھی.

اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنما اور سابقہ اراکین رابطہ کمیٹی کمال ملک اور سید شاہد پاشا نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی جب کہ اراکین قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت، علی راشد، ڈاکٹر فوزیہ اور سلمان مجاہد بلوچ کی سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top