The news is by your side.

Advertisement

مادرِ ملت فاطمہ جناح کے زیر استعمال گاڑیاں اصلی حالت میں واپس آگئیں

کراچی: مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال 2 تاریخی گاڑیاں اپنی اصل حالت میں واپس آگئیں، پاکستان کے ماہر مکینک نے شبانہ روز محنت کرکے یہ کاررنامہ سرانجام دیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے گزشتہ برس قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ کے زیر استعمال دونوں گاڑیاں سنہرے رنگ کی کیڈلک اور مرسڈیز بینز 200 ماڈل زنگ آلود حالت میں نیشنل میوزیم کے گیراج میں موجود تھیں۔

معاہدے کے تحت حکومت نے یہ گاڑیاں مرمت کے لیے ونٹاج اینڈ کلاسک کار کلب کے بانی محسن اکرام کے حوالے کیں جن پر انہوں نے شبانہ روز محنت کی اور گاڑیوں کو اپنی اصلی حالت میں واپس لائے۔

گاڑیوں کی مرمت اور انہیں حکومت کے حوالے کرنے کے بعد محسن اکرم نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیڈلک گاڑی 100 فیصد اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی جبکہ مرسڈیز بینز کا 98 فیصد کام مکمل ہو سکا کیونکہ آگے لگے لوگو کی مرمت نہیں ہوسکی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ‘گاڑیوں کو اصل حالت میں واپس لانے کے لیے ہم نے اس میں کچھ پتھروں کا استعمال کیا، اب یہ دونوں گاڑیاں قائد اعظم ہاؤس میں نمائش کے لیے رکھی جائیں گی اور عوام بھی انہیں اپنی اصلی حالت میں دیکھ سکیں گے‘۔

مزید پڑھیں: محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال گاڑیاں بحالی کے لیے ماہرین کے حوالے

انجینئر اکرام کا کہنا تھا کہ ’خستہ حال اور زنگ آلود گاڑیوں کو چمکتا ہوا دیکھ کر مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ اس کام کے لیے میں نے 19 سال تک جدوجہد کی‘۔

واضح محسن اکرام نے 1992 میں موہٹہ پیلیس میں ان گاڑیوں کی نشاندہی کی تھی اور تب سے وہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ ان گاڑیوں کو محفوظ کیا جائے۔

محسن اکرام اپنی ٹیم کے ساتھ اس مرمتی کام کی نگرانی کی، ان کا کہنا تھا کہ نیشنل میوزیم کے گیراج میں کام کرنے کے لیے پہلے گیراج کو درست حالت میں لانا ہوگا کیونکہ یہاں روشنی موجود نہیں، دیواروں کا پلستر اکھڑ رہا اور بارش کے دوران یہاں کی چھت بھی ٹپکتی ہے۔

خیال رہے کہ محسن اکرام اس سے قبل بھی کئی پرانی گاڑیوں کی مرمت و بحالی کا کام کر چکے ہیں اور خصوصاً مادرِ ملت کی گاڑیوں کو اصل حالت میں واپس لانے کے لیے وہ بے حد پرجوش تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں