The news is by your side.

Advertisement

پنجاب اسمبلی: فیاض الحسن کے دوبارہ وزیر منتخب ہونے پر مٹھائی تقسیم، اپوزیشن سیخ پا

لاہور: پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں فیاض الحسن چوہان کے دوبارہ وزیر منتخب ہونے پر مٹھائی تقسیم کی گئی جس پر اپوزیشن نے شور شرابا شروع کردیا، فیاض الحسن کا کہنا تھا کہ شریف برادران کی ساری اوقات ایوان میں کھول کر رکھ دوں گا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں فیاض الحسن چوہان کے دوبارہ وزیر منتخب ہونے پر مٹھائی تقسیم کی گئی، اپوزیشن اراکین مٹھائی دیکھ کر سیخ پا ہوگئے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مٹھائی کے ڈبے پر اپنا جوتا رکھ دوں گی پھر اچھا رہے گا؟ ایک اور لیگی رکن اسمبلی مرزا جاوید نے کہا کہ جھوٹے وزیر کی مٹھائی پر لعنت بھیجتے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان کی آمد پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ شروع کردیا اور شدید نعرے بازی کی۔

فیاض الحسن نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد خادم اعلیٰ زلزلہ متاثرین کا پیسہ ہڑپ کر گئے، مسکینوں اور غریبوں کا پیسہ نہیں چھوڑا قوم ان کا چہرہ دیکھ لے۔ رانا ثنا اللہ منشیات فروشوں کے ساتھی ہیں کئی لوگوں کو قتل کیا۔ ایسے شخص کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آرڈر صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو سیاسی قیدی ہوں، شریف برادران کی ساری اوقات ایوان میں کھول کر رکھ دوں گا۔

فیاض الحسن کے خطاب کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ جاری رہا جس کے باعث پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

بعد ازاں اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن نے کہا کہ آج پنجاب اسمبلی میں عجیب و غریب تاریخ دہرائی گئی، فیاض الحسن کی بات سننا ان کے لیے عذاب تھا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ جج ارشد ملک نے اپنے اعترافی حلف میں ناصر جنجوعہ کی بات کی، جیل میں نواز شریف سے ملاقات سے پارٹی رہنماؤں کو روکا گیا۔ کہا گیا نواز شریف نے کہا ہے ان سے اہم شخص ملاقات کر رہے ہیں۔ نواز شریف سے ملاقات کے بعد وہ شخص باہر آیا تو ناصر جنجوعہ تھا۔ شاہد خاقان اور دیگر کو نواز شریف سے ملاقات کے لیے انتظار کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بیٹی ججز کی ویڈیو چلاتی ہے، بیٹے رشوت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ سسلین مافیا وہ تھا جو پہلے خریدتا تھا، ناکامی پر بلیک میل کرتا تھا۔ کل برطانوی اخبار نے ایک اسٹوری بریک کی ہے۔ زلزلہ متاثرین کے فنڈ میں خرد برد کی گئی اور رقم ہتھیائی گئی۔ انہوں نے میاں، بیوی، بچوں اور داماد، سمدھی سمیت لوٹ مار کی۔

فیاض الحسن کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈر مخصوص اقدامات کے لیے جاری ہوتے ہیں۔ چور، ڈاکو اور قاتل کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوتے۔ اپنے 10 سال انہوں نے پروڈکشن آرڈر کا قانون ہی نہیں بننے دیا۔ ان کے منہ سے پروڈکشن آرڈر مانگنا اپنے منہ پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے سنہ 2005 میں اثاثے 18 کروڑ تھے، اسی شخص کے سنہ 2008 میں اثاثے 40 ارب کیسے ہوگئے۔ برطانوی اخبار نے ان کی کرپشن کے پردے کو چاک کر دیا ہے۔ آمریت میں پلنے والوں کا کریکٹر عوام کے سامنے آچکا ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اسمبلی کا سارا قرضہ اسمبلی کے باہر ڈائس پر چکاتا ہوں، کہا سنا نہیں چھوڑتا مخالفین کو ڈائس پر کھڑے ہو کر جواب دیتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں