The news is by your side.

Advertisement

ایف بی آر انعامی اسکیم کی مقبولیت میں اضافہ

اسلام آباد : ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ٹیکس گزاروں کو سہولیات فراہمی کی خاطر اہم اقدامات کیے ہیں جس میں انعامی اسکیم بھی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی انعامی اسکیم کی مقبولیت کے ساتھ ہی پی او ایس کی تصدیق شدہ انوائسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق مختلف ڈیجیٹل اقدامات میں پوائنٹ آف سیل سسٹم اہم اقدام ہے، سسٹم پر صارفین سے وصول کیا جانے والا ٹیکس خزانے میں جمع کیا جائے،5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی انعامی اسکیم بھی شامل ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے انعامی سکیم کے تحت ہرماہ کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک ہزار سات خوش نصیبوں میں پانچ کروڑ تیس لاکھ روپے کی انعامی رقم تقسیم کی جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اپنے آپریشنز کی آٹومیشن اور ٹیکس گزاروں کو سہولیات دے کر ٹیکس تعمیل کو بڑھانے کیلئے اٹھائے جانے والے مختلف ڈیجیٹل اقدامات میں پوائنٹ آف سیل سسٹم ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان بھر میں موجود ٹیئر ون ریٹیلرز کی سیلز کی نگرانی کرنا ہے۔

اس اہم پہلو کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے اور ریونیو چوری کی روک تھام کیلئے، ایف بی آر نے قومی سطح کے میڈیا پر ایک ہمہ گیر اور متحرک آگاہی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد صارفین کو آگاہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پوائنٹ آف سیلز پر صارفین سے وصول کیا جانے والا ٹیکس ریٹیلرز کی اپنی جیب میں جانے کے بجائے سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے۔

مزید برآں، اس مہم میں5 کروڑ30 لاکھ روپے کی انعامی اسکیم بھی شامل ہے جو ہر ماہ کی15 تاریخ کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز، اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شفاف کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے1007 جیتنے والے خوش نصیبوں میں تقسیم کی جائے گی۔

یہ واقعی ٹیکس تعمیل میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنانے اور اپنی قومی ذمہ داری کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا ایک فقید المثال اقدام ہے کہ وہ نہ صرف اپنا واجب الادا ٹیکس ادا کریں بلکہ اسے قومی خزانے میں جاتے ہوئے چوری ہونے سے بھی بچائیں۔

تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی اس جاری آؤٹ ریچ مہم اور انعامی اسکیم میں تیزی آتی جارہی ہے۔ جنوری میں، ایف بی آر نے دیکھا کہ تقریباً 2,49,000 انوائسز کی تصدیق ان صارفین کے ذریعے کی گئی جنہوں نے ایف بی آر پی او ایس سسٹم کے ساتھ منسلک آؤٹ لیٹس سے خریداری کی تھی جبکہ جنوری2022 میں یہ تعداد 153,000تھی۔

اسی طرح، فروری میں ٹیئر ون ریٹیلرز کی جانب سے تقریباً 38 ملین انوائسز ایف بی آر پی او ایس سسٹم کےساتھ منسلک ہیں جبکہ جنوری 2022 میں یہ تعداد 37 ملین تھی، حالانکہ رواں ماہ میں جنوری کے مقابلے میں 3دن کم بھی ہیں۔

اگر فروری میں مزید 3 دن دستیاب ہوتے تو تقریباً مزید چار ملین تصدیق شدہ رسیدیں مزید شامل کی جاتیں۔ جنوری میں27,000 سے بڑھ کر فروری میں صارفین کی تعداد 39000 کے قریب پہنچ گئی جنہوں نے کامیابی سے اپنے رسیدوں کی تصدیق کی۔

یہ عوامی شمولیت میں غیر معمولی اضافہ ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ دوسری کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 15 فروری (منگل کی شام) کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین تھے۔ یہ دیکھنا انتہائی پرمسرت ہے کہ بڑے پیمانے پر لوگ اس قومی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے پرجوش ہیں۔

ایف بی آر نے اپنی جاری ملک گیر آگاہی مہم میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں ٹیکس تعمیل کے کلچر کو فعال طور پر فروغ دیں۔

ریونیو اکٹھا کرنے والے قومی ادارے نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سہ جہتی حکمت عملی تجویز کی ہے کہ پوائنٹ آف سیلز پر صارفین سے وصول کئے جانے والے سیلز ٹیکس کو حقیقت میں سرکاری خزانے میں جمع کیا جا سکے۔

ایف بی آر نے تجویز دی ہے کہ لوگ صرف ٹیئر ون ریٹیل آؤٹ لیٹس سے خریداری کریں جو ایف بی آر پی او ایس سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں، کمپیوٹرائزڈ انوائس (پکی رسید) کا مطالبہ کریں اور پھر ایف بی آر ٹیکس آسان ایپ کے ذریعے اس کی تصدیق کریں۔

یہ امر نہایت اطمینان بخش ہے کہ شہریوں نے قومی فریضہ نبھانے کیلئے اس کال پر لبیک کہنا شروع کردیا ہے اور ریٹیلرز سے پکی رسید کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایف بی آر پہلے ہی 106 ملین روپے کے انعامات جنوری اور فروری 2022 کی 15 تاریخ کو شفاف انداز سے

منعقد ہونے والی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے 2014 جیتنے والے خوش نصیبوں میں تقسیم کر چکا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لوگ اگلی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا حصہ بننے میں کافی دلچسپی دکھا رہے ہیں، جو 15 مارچ 2022 کو منعقد ہوگی۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی شمولیت سے ان کے جوش اور مثالی عزم ایف بی آر اور اس کی اختراعی پی او ایس انوائسنگ پرائز سکیم پر ان کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قومی جذبے نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر لوگوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا ہے کہ وہ ریٹیلرز سے جمع کیے گئے ٹیکس کے محافظ بن کر اس ٹیکس کو قومی خزانے میں محفوظ طریقے سے جمع کرنے کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

صارفین کی شمولیت کا یہ اختراعی اقدام میں زور و شور سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس طرح ٹیکس تعمیل کو فروغ دینے اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے لیے مطلوبہ قومی مہم میں بھی تیزی آئی گی۔ اس کا مقصد لوگوں کو ذمہ دار شہری اور ٹیکس گزار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی جانب راغب کرنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں