The news is by your side.

Advertisement

95 کھرب روپے کا بجٹ پیش، خسارہ 500 ارب سے زائد

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال برائے 2022-23 کے لیے بجٹ پیش کردیا، بجٹ کا مجموعی حجم 9502 کھرب روپے جب خسارہ 5100 کھرب روپے سے زائد ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس وقت کم ہے، معاشی استحکام ہماری اولین ترجیح ہے، ہمارے فیصلوں سے ملک اور معیشت کو فائدہ ہوگا، ہم نے ہمیشہ قومی مفاد کو اپنے سیاسی مفاد پر ترجیح دی، ہمیں معیشت چلانے کیلئے کم آمدن طبقے کو مراعات دینا ہوگی، غریب کی معاشی حالت کو سنبھالنا ہوگا اور معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنا ہوگی، برآمدات بڑھانا ہوں گی، زراعت اور آئی ٹی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور برآمدات کو بڑھانا ہوگا تاکہ وہ عالمی منڈی میں دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں، بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کیلیے ہمیں مشینری اور خام مال کی درآمد کے بعد اس کی ویلیو میں اضافہ کرکے برآمد کرنا ہوگا اس سے جتنی درآمدات بڑھیں گی اس سے کہیں زیادہ برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

مفتاح اسماعیل نے اپنی بجٹ تقریر میں عمران خان حکومت پر کڑی تنقید بھی کی اور کہا کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے معیشت کی ابترصورتحال ہے،گزشتہ دورحکومت میں شدید معاشی عدم استحکام تھا، پونے چار سال تاریخی مہنگائی، غیر ملکی زرمبادلہ میں مشکلات، زیادہ لاگت پر بے دریغ قرضوں کا حصول، لوڈشیڈنگ اور اوپر سے مسائل کا حل نکانے میں ناکام سابق حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مشکلات سے دوچار کررکھا تھا، گزشتہ پونے چار سال کی بدانتظامی کے باعث اس وقت پاکستان مہنگائی کے حساب سے دنیا کے تین بڑے ملکوں میں تیسرے نمبر پر ہے، ساڑھے سات کروڑ لوگ غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور جن میں دو کروڑ کا اضافہ گزشتہ دور حکومت میں ہوا جب کہ اسی دوران 60 لاکھ لوگ بیروزگار ہوئے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ لوگ بات کرکے مکر جانے کے ماہر ہیں، آئی ایم ایف کا پروگرام فروری تک معطل ہوچکا تھا، فروری کے آخر میں جب عمران خان کی حکومت کو لگا کہ ان کی رخصت کے دن قریب ہیں تو انہوں نے اتحادی حکومت کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جو دراصل ریاست پاکستان کی معیشت کے لیے بارودی سرنگیں تھیں، جس طریقے سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی گئی جب کہ حکومت پاکستان کا خزانہ قرض مانگ کر چلایا جارہا تھا ان کے اس اقدام سے ہماری ریاست ایک سنگین بحران یں پھنس گئی جس کو نکالنے کی کوشش اب تک جاری ہے، ہم وہ ساری تبدیلیاں کریں گے جس سے ملک اور معیشت کا فائدہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پیش نظر کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کی ہدایت پر 40 ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کو دو ہزار روپے ماہانہ امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا جو کہ رواں ماہ سے نافذ العمل ہے، اس سے تقریباً 8 کروڑ سے زائد لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، یہ امداد آئندہ بجٹ میں بھی شامل کردی گئی ہے اور یہ صرف کار یا موٹر سائیکل رکھنے والے افراد کے لیے نہیں بلکہ جو لوگ بس میں سفر کرتے ہیں وہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بی آئی ایس پی پروگرام میں مزید 60 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جارہا ہے جن کو ہر ماہ دو ہزار روپے دیے جائیں گے۔

وزیراعظم اس مشکل گھڑی میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے ہیں، اس مقصد کے یے حکومت نے امداد اور سبسڈی کے لیے کئی اقدامات کیے ہٰں لیکن ایسا مستقل بنیادوں پر کرنے کے لیے ہمیں ذرائع فراہم کرنا ہوں گے، اس کے لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ زیادہ آمدن والے افراد پر اسپیشل ٹیکس لگایا جائے اور اس طرح ان کی دولت کا رخ غریب عوام کی طرف موڑا جائے، زرعی پیداوار میں اضافہ، صنعتی ترقی حکومت کے اہم اہداف ہیں، محصولات کی چوری روکنے کیلیے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کےلیے کوشاں ہیں، کفایت شعاری ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے حکومتی اخراجات میں کمی اس بجٹ کا حصہ ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال پی ایس ڈی پی منصوبوں پر 550 ارب روپے خرچ ہوں گے، وفاقی حکومت کے اخراجات  530 ارب روپے مختص، پنشن پر 525 ارب روپے، سبسڈی پر1515 ارب، ایڈ اینڈ گرانٹس کی مد میں 1090 ارب روپے خرچ کئے جاچکے۔ آئندہ سال کے لیے فصلوں، مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی پر10 ارب روپے خرچ ہونگے زرعی شعبے میں جدت، معیاری بیج اورایکسپورٹ کیلئے 11 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی تقریر میں بجٹ کے اعداد وشمار پیش کیے جس کے اہم نکات یہ ہیں۔

بجٹ کا مجموعی حجم اور خسارہ:
آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 9502 ارب روپے ہے، بجٹ خسارہ 5100 ارب روپے رہے گا، بجلی کا گردشی قرض 2500 ارب روپے ہوگیا ہے جبکہ گیس کے شعبے میں پہلی بار گردشی قرض آیا ہے جو کہ 1400 ارب رہا۔

ٹیکس وصولی ہدف:

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال ایف بی آر ریونیو کا ہدف 7004 ارب روپے ہے، مجموعی محصولات کاحجم 4904 ارب روپے ہوگا، نئے مالی سال نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے، براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2573 ارب روپے کا ہدف، انکم ٹیکس کا ہدف 2558 ارب روپے سے زائد، ورکرز ویلفیئر فنڈ سے 6 ارب 94 کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا کرنے اور ورکرز منافع شراکت فنڈ سے 7 ارب 46 کروڑ 20 لاکھ روپے اکٹھا کرنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح کیپٹل ویلیو ٹیکس کی مد 51 کروڑ 50 لاکھ روپے ٹیکس اکٹھا کرنے، ان ڈائریکٹ ٹیکسزسے 4431 ارب  کے محصولات اکٹھا کرنے، سیلز ٹیکس کے ذریعے 3076 ارب روپے، کسٹم ڈیوٹیز کی مد میں 953 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 402 ارب روپے اکٹھا کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو 1315 ارب روپے ہوگا اور رواں مالی سال مجموعی اخراجات 9118 ارب روپے ہوں گے۔

قرضوں اور سود کی ادائیگی:

رواں سال قرض اور سود کی ادائیگی پر 3950 ارب روپے خرچ ہوں گے، سود کی ادائیگی میں 3144 ارب روپے خرچ ہوں گے، اندرونی قرضوں پر2770 ارب روپے اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 373 ارب روپے رکھا گیا ہے، آئندہ سال لئے گئے قرضوں پر سود کی مد میں 3950 ارب روپے خرچ ہوں گے، آئندہ سال 3439ارب روپے اندرونی،511ارب روپے بیرونی قرض کے سود پرخرچ ہوں گے۔

امدادی پروگرام:

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 250 ارب سے بڑھا کر 364 ارب روپے مختص کی گئی ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال سمیت تمام گرانٹس کا حجم 1242 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستی اشیا کی فراہمی کے لئے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال رمضان پیکیج کیلئے 5 ارب روپے کی اضافی رقم رکھی گئی ہے، بینظیر کفالت کیش ٹرانسفر کے لئے 266 ارب روپے، بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کا دائرہ ایک کروڑ بچوں تک بڑھایا جائے گا اور اس کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اس کے علاوہ آئندہ مالی سال 10 ہزار نئے طالبعلموں کو بینظیرانڈر گریجوٹ اسکالر شپ دی جائیگی، بینظیر انڈر گریجویٹ اسکالر شپ کیلئے9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ بجٹ میں بینظیر نشونما پروگرام کیلئے ساڑھے 21 ارب روپے مختص جب کہ مستحق افراد کے علاج اور امداد کیلئے پاکستان بیت المال کو6 ارب روپے دینگے، آئندہ مالی سال بجلی بلوں پرسبسڈی مد میں 570 ارب روپے مختص کئے ہیں،پٹرولیم شعبے میں بقایاجات کی ادائیگی کیلئے 248 ارب روپے جاری کردیے ہیں جب کہ پٹرولیم بقایاجات کے لئے 71 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

نوجوانوں کے لیے بلاسود قرض اور لیپ ٹاپ اسکیم:

آئندہ مالی سال نوجوانوں کیلئے ڈھائی کروڑ روپے تک آسان شرائط کی قرض اسکیم ہوگی، نوجوانوں کو کاروبار کے لئے 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیاجائیگا، بلاسود اور آسان شرائط قرض اسکیم میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کیلئے مختص کیا گیا ہے جب کہ گرین یوتھ موومنٹ کےتحت نوجوانوں کو مفت لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، آئندہ مالی سال نوجوانوں کوقسطوں پرلیپ ٹاپ دینے کی اسکیم ہوگی۔

دفاعی اور سول انتظامیہ:

دفاعی بجٹ کے لئے 1523ارب روپے، سول انتظامیہ کے اخراجات کےلئے 550 ارب روپے، پنشن کے لئے 530 ارب روپے، سال ٹارگٹڈ سبسڈی کے لئے 699ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

فلم، ڈراما اور میوزک انڈسٹری کے لیے بڑی مراعات:

فلم سازوں کے لئے 5 سال تک  ٹیکس ہولیڈے ہوگا، نئے سینما گھروں، پروڈکشن ہاؤسز، فلم میوزیم کے قیام پر5 سال تک انکم ٹیکس کا استثنیٰ دیا جارہا ہے جب کہ فلم اور ڈرامے کی ایکسپورٹ پر ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا۔

فلم، ڈرامہ ایکسپورٹ پر ٹیکس ریبٹ اسکیم 10 سال کیلئے ہوگی، سینما اور فلم پروڈیوسز سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا، نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ، اسٹوڈیو اور پوسٹ فلم پروڈکشن فیسیلٹی قائم ہوگی، نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ، اسٹوڈیو، پوسٹ فلم پروڈکشن کی لاگت ایک ارب روپے ہوگی، سینما، پروڈکشن ہاؤسز، فلم میوزیمز، پوسٹ پروڈکشن فیسیلٹی کو کارپوریٹ کا درجہ ملے گا، فارن فلم پروڈیوسر کو 70 فیصد ریبیٹ کیلئے شوٹنگ پاکستان میں کرنے کی شرط عائد ہوگی۔

ڈسٹری بیوٹرز، پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس اور فلم، ڈراموں کیلئے مشینری، آلات، سازوسامان کی درآمد پر5 سال کسٹم ڈیوٹی، انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

کم آمدنی والے پاکستانیوں کے لیے امداد:

وزیر خزانہ نے کہا کہ امیروں سے دولت کا رُخ غریبوں کی طرف موڑا جارہا ہے، 40 ہزار سالانہ سے کم آمدن والے پاکستانیوں کو نقد رقوم دی جائیں گی۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

 

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ:

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1600 سے زائد سی سی کی لگژری گاڑیوں پرٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

850 سی سی تک کی گاڑی پر 10 ہزار روپے، 851 سے 1000 سی سی  گاڑی پر 20 ہزار، 1001 سی سی سے 1300 سی سی  گاڑی پر 25 ہزار، 1301 سے 1600 سی سی  گاڑی پر 50 ہزار اور 1601 سے 1800 سی سی  گاڑی پر ایک لاکھ 50 ہزار ٹیکس کی تجویز ہے۔

1801 سے 2000 سی سی  گاڑی پر 2 لاکھ روپے، 2001 سے 2500 سی سی  گاڑی پر 3 لاکھ، 2501 سے 3000 سی سی  گاڑی پر 4 لاکھ اور 3000 سی سی سے زائد کی گاڑی پر 5 لاکھ روپے ٹیکس کی تجویز ہے۔

1600سی سی سے زائد الیکٹرک انجن  گاڑی کا ٹیکس قیمت کا 2 فیصد ہوگا، نان فائلر کے گاڑی خریدنے پر ٹیکس شرح بڑھا کر200 فیصد کردی گئی۔

انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات:

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عدالتوں سے باہر تنازعات اور مقدمات طے کرنے کیلئے متبادل نظام شروع کیا جارہا ہے، مقدمے بازی پر اٹھنے والے اخراجات اور وقت بچانے کے علاوہ حائل دقتوں کو دور کیا جائےگا۔

مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی:

توانائی کے شعبے کو 570 ارب روپے کی سبسڈی، پٹرولیم مصنوعات پر 71 ارب روپے، پاسکو کیلئے 7 ارب روپے، یوٹیلیٹی اسٹورز کو اگلے مالی سال میں 17 ارب روپے کی سبسڈی کی تجویز ہے۔

گلگت بلتستان کو گندم کی خریداری کیلئے 8 ارب روپے سبسڈی، میٹرو بس منصوبے کو 4 ارب روپے کی سبسڈی، کھاد کے کارخانوں کو 15 ارب روپے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کو 50 کروڑ، نیا پاکستان کیلئے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے 50 کروڑ، کھاد کی درآمد کیلئے 6 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی تجاویز ہیں۔

ریٹیلرز کے لیے فکس ٹیکس:

یکم جولائی سے ریٹیلرز کے لئے فکس ٹیکس کا نظام لاگو ہوگا اور یہ فکس ٹیکس 3 سے 10 ہزار روپے تک ہوگا، ریٹیلرز فکس ٹیکس پروگرام نظام کے تحت ٹیکس وصولی بجلی بل کیساتھ ہوگی اور فکس ٹیکس دینے والے ریٹیلرزسےایف بی آر سوال کا مجازنہیں ہوگا۔

قومی بجٹ اسکیموں کے منافع پر ٹیکس میں کمی:

قومی بچت اسکیموں کے منافع پر ٹیکس حد 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردی گئی ہے۔

ایک سے زائد گھر خریدنے والوں پر ٹیکس عائد:

ایک سے زیادہ ڈھائی کروڑ مالیت یا اس سے زائد والے گھر پر ایک فیصد ٹیکس ہوگا، ایک سے زائد گھر پر خصوصی ٹیکس فیئر مارکیٹ ویلیو کے حساب سے لیا جائے گا۔

غیر منقولہ اثاثوں کی خرید وفروخت سے حاصل منافع کی شرح مختلف ہوگی، غیر منقولہ اثاثوں کی خریدوفروخت پر پہلے سال 15 فیصد ٹیکس لیا جائے گا، 6 سال بعد فروخت پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

صنعتی اور برآمدی سیکٹر کے لیے مراعات کا اعلان:

ایکسپورٹ سیکٹر میں مسابقت کیلئے انڈسٹریل گیس ٹیرف کا اعلان ہوگا، برآمد کنندگان کے40 ارب روپے سے زائد ٹیکس کلیم فوری کلیئر کرنے کا اعلان کیا جائیگا، صنعتیں چلانے والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ ہوگی۔

سرکاری دفاتر کے خریداری پر پابندی:

سرکاری دفاتر کیلئے فرنیچر اور اس طرح کے سامان کی خریداری پرپابندی عائد کردی گئی ہے جب کہ کابینہ اور سرکاری افسران کے پٹرول میں 40 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، آئندہ مالی سال پنشن کے لیے 530 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ:

وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لئے 800 ارب روپے مختص  کیے گئے ہیں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان کیلئے پی ایس ڈی پی میں 136 ارب روپے، بجلی شعبے کیلئے73ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں چھوٹ:

تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز 12 سے کم کرکے 8 کردیے گئے ہیں، 6 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا، 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر 100 روپے ٹیکس ہوگا۔

12 لاکھ سے 24 لاکھ سالانہ آمدن پر7 فیصد، 24 سے 36 لاکھ آمدن پر 84 ہزاربشمول 12.5 فیصد انکم ٹیکس، 36 سے 60 لاکھ  پر 2لاکھ 34 ہزار بشمول 17.5 فیصد ٹیکس، 60 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ آمدن پر6 لاکھ 54 ہزار اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد آمدن پر20 لاکھ 4 ہزار ٹیکس کی تجویز ہے۔

جی ڈی پی اور افراط زر کے اہداف:

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرح5 فیصد مقرر کی گئی ہے، جی ڈی پی تناسب میں ٹیکس کی شرح 9.2 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا منفی 2.2ہوگا،  جب کہ مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.5 فیصد رکھنے کا ہدف ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن:

رواں مالی سال ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 65 ارب روپے دیئے جائیں گے، جس میں اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں پر51 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ آئی ٹی سیکٹر ٹریننگ پروگرامز کے لئے 17 ارب روپے مختص ہیں۔

درآمدات کا ہدف برآمدات سے دگنا:

آئندہ مالی سال میں درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر اور برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالرز رکھا گیا ہے، ترسیلات زرکا حجم 33.2 ارب ڈالرز ہونے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ٹیکسز:

کمپنیز،ایسوسی ایشن آف پرسنز کی سالانہ آمدنی 3 کروڑ ہے تو 2 فیصد ٹیکس ہوگا، بینکنگ کمپنیوں پر ٹیکس کی موجودہ شرح 39سے بڑھا کر 42 فیصد کردی گئی ہے جب کہ بینکنگ کمپنیوں پر عائد 42فیصد ٹیکس میں سپر ٹیکس شامل ہے، خود کوغیر رہائشی پاکستانی ظاہرکرنیوالے جو بیرون ملک ٹیکس نہیں دیتے پاکستان میں ٹیکس دینا ہوگا، کریڈٹ، ڈیبٹ، پری پیڈکارڈز سے بیرون ملک ادائیگی پر فائلر کیلئے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس ایک فیصد اور نان فائلر کے لیے 2 فیصد ہوگا، غربت میں کمی کیلئے زیادہ آمدنی والوں پر ون ٹائم ٹیکس کی تجویز ہے، بڑے فارم ہاؤسز اور ڈھائی کروڑ سے زائد کی غیر استعمال شدہ پراپرٹی پر ٹیکس کی تجاویز ہیں۔

سولر پینل پر سیلز ٹیکس ختم:

سولر پینل کی  درآمد اور مقامی سپلائی پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، 200 یونٹ سے کم بجلی صارفین سولر پینل خریداری کیلئے قرض لےسکیں گے، زرعی صنعتوں کی مشینری، آلات، سازوسامان پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی۔

ادویہ کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم:

دواؤں میں استعمال ہونیوالی 30 ضروری اشیا کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔

سگریٹ، ایئر ٹکٹس، ٹیلی کمیونیکشن خدمات پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ:

مقامی سگریٹس پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے اس کے علاوہ کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس ایئر ٹکٹس پر ڈیوٹی 50 ہزارتک، ٹیلی کمیونیکیشن خدمات پرڈیوٹی 16 سے بڑھا کر19.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال پی ایس ڈی پی منصوبوں پر 550 ارب روپےخرچ ہوں گے، وفاقی حکومت کے اخراجات  530 ارب روپے مختص، پنشن پر 525 ارب روپے، سبسڈی پر1515 ارب، ایڈ اینڈ گرانٹس کی مدمیں 1090ارب روپے خرچ کئے جاچکے۔ آئندہ سال کے لیے فصلوں، مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی پر10 ارب روپے خرچ ہونگے زرعی شعبے میں جدت، معیاری بیج اورایکسپورٹ کیلئے 11 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے اپنی بجٹ تقریر میں عمران خان حکومت پر کڑی تنقید بھی کی اور کہا کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے معیشت کی ابترصورتحال ہے، وہ عوام سے کس چیز کا بدلہ لیتی رہی؟ یہ لوگ بات کرکے مکر جانے کے ماہر ہیں، آئی ایم ایف کا پروگرام فروری تک معطل ہوچکا تھا، ہم وہ ساری تبدیلیاں کریں گے جس سے ملک اور معیشت کا فائدہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس وقت کم ہے، معاشی استحکام ہماری اولین ترجیح ہے، ہمارے فیصلوں سے ملک اور معیشت کو فائدہ ہوگا، ہم نے ہمیشہ قومی مفاد کو اپنے سیاسی مفاد پر ترجیح دی، ہمیں معیشت چلانے کیلئے کم آمدن طبقے کو مراعات دینا ہوگی، غریب کی معاشی حالت کو سنبھالنا ہوگا اور معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنا ہوگی، برآمدات بڑھانا ہوں گی، زراعت اور آئی ٹی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں