The news is by your side.

Advertisement

ایف آئی اے نےمحسن داوڑ اور علی وزیر کو بیرون ملک جانے سے روک دیا

پشاور: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے دو اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی بیرونِ ملک جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے انہیں پرواز سے آف لوڈ کردیا۔

نمائندہ اے آر وائی صلاح الدین کے مطابق علی وزیر اور محسن داوڑ کو ایف آئی اے نے پشاور کے باچا خان ائیرپورٹ پر آف لوڈ کیا دونوں اراکین اسمبلی غیر ملکی پرواز کے ذریعے دبئی کے راستے بحرین روانہ ہورہے تھے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے دونوں اراکین اسمبلی کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے پر آف لوڈ کیا اور انہیں حصار میں لے کر پوچھ گچھ کا آغاز کردیا۔

ایف آئی اے نے دونوں اراکین اسمبلی کو حیات آباد سینٹر منتقل کیا اور تفتیش کے بعد رہا کردیا۔

یاد رہے کہ دونوں اراکین حالیہ عام انتخابات میں خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں سے منتخب ہوکر قومی اسمبلی پہنچے۔

مزید پڑھیں: ایس پی طاہر داوڑ کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

واضح رہے کہ محسن داوڑ کی ملک مخالف غیر قانونی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں تھیں، ایس ایس پی شہید طاہر داوڑ کی میت حوالگی کے وقت بھی رکن قومی اسمبلی کا کردار بہت ہی زیادہ مشکوک تھا۔

پاک افغان مذاکرات میں امتیاز وزیر نامی شخص افغان حکام کی قیادت کررہا تھا، مذاکرات کے دوران امتیاز وزیر نامی شخص کا رویہ بہت جارحانہ تھا اس کی مسلسل ضد رہی کہ طاہر داوڑ میت صرف منظور پشتین کے حوالے کی جائے گی۔

اس موقع پر محسن داوڑ اور امتیاز وزیر کے درمیان دس منٹ تک تنہائی میں بات چیت بھی ہوئی تھی، ذرائع کا دعویٰ تھا کہ امتیاز وزیر اور محسن داوڑ پہلے سے ہی ایک دوسرے سے واقف بھی لگ رہے تھے۔

محسن داوڑ نے ہی امتیاز وزیر کو راضی کیا کہ میت عمائدین کے حوالے کر دی جائے، ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امتیاز وزیر اُس وقت افغانستان کے شہر کابل کے فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش پذیر تھا۔

اس کے علاوہ مذکورہ شخص کا شمار افغان صدر اشرف غنی کا قریبی ساتھیوں میں بھی ہوتا ہے، امتیاز وزیر کا تعلق اسپین وام ششی خیل کے علاقے سے ہے۔

امتیاز وزیر دو ہزار تیرہ میں پاکستان آیا تھا اور اس نے اے این پی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں