بھاری فیسیں لینے والے اسکولوں کی شامت آگئی،ایف آئی اے کا چھاپہ، ریکارڈ ضبط
The news is by your side.

Advertisement

بھاری فیسیں لینے والے اسکولوں کی شامت آگئی،ایف آئی اے کا چھاپہ، ریکارڈ ضبط

کراچی : سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کراچی ،لاہور اور سکھر میں ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے اسکولوں پر چھاپے مار کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا جبکہ  ایف 22 بڑے نجی اسکولوں سے متعلق مراسلہ جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی اسکولوں کی فیسوں پر سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے حرکت میں آگئی، ایف آئی اے نے کراچی،لاہور،سکھرسمیت مختلف شہروں میں اسکولوں پر چھاپے مار کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔

کراچی سمیت سندھ کے شہروں میں سولہ اسکولوں پر چھاپے مارے گئے ، بیکن ہاؤس اور سٹی اسکول کی متعدد برانچوں کاریکارڈضبط کیا گیا جبکہ بےویو اکیڈمی ، جنریشن اسکول، فروبل ایجوکیشن سینٹراورسولائزیشن اسکول کا ریکارڈبھی ضبط کرلیا گیا۔

ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے لاہور میں تمام نجی اسکولوں کا ریکارڈ تحویل میں لے لیا ہے، بیکن ہاؤس، لاہور گرامر،روٹس آئی وی اور دیگر کا ریکارڈ ضبط کیا گیا ہے جبکہ تمام اسکولوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔

  ایف آئی اے کا 22 بڑے نجی اسکولوں سے متعلق مراسلہ جاری


اس سے قبل ایف آئی اے نے 22 بڑے نجی اسکولوں سے متعلق مراسلہ جاری کیا تھا ، مراسلہ ایف آئی اے کےتمام زونز کےسربراہان کو لکھا گیا، جس میں اسکولوں میں مالکان اورسی ای اوز کی کرپشن کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔

مراسلے میں کہا گیا تھا کہ اسکولوں کامینوئل اور کمپیوٹرائیزڈ ریکارڈ تحویل میں لیا جائے،اسکولوں میں بیکن ہاؤس،سٹی اسکول سسٹم، لاہور گرامر اسکول، روٹس، ملینیم شامل روٹس آئی وی، لر ننگ الائنس، لاہور کالج آف آرٹس، فروبلز اسکول سسٹم ، سلامت اسکول سسٹم، جنریشن اسکول کراچی اور سولائیزیشن اسکول سسٹم کراچی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں : چیف جسٹس کا تمام نجی اسکولوں کی فیسوں میں کمی کا حکم

یاد رہے گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پانچ ہزار سے زائد فیس لینے والے تمام نجی سکولوں کو بیس فیصد فیس کم کرنے اور گرمیوں کی چھٹیوں کی آدھی فیسیں والدین کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا اور ہدایت کی تھی فیسوں میں سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کیا جائے۔

عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سکول بند نہیں کیا جائے گا اور کوئی بچہ سکول سے نہیں نکالا جائے گا، بصورت دیگر توہین عدالت کی کاروائی ہو گی۔

چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر کو تمام سکولوں کے ٹیکس ریکارڈ کی پڑتال کرنے اور سکولوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات قبضے میں لینے کا بھی حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں