The news is by your side.

Advertisement

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریکارڈ سے فائلیں غائب ہونے کا انکشاف

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریکارڈ سے فائلیں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ مافیا نے ایس بی سی اے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنا اور ریکارڈ غائب کرنا شروع کر دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایس بی سی اے میں کرپٹ مافیا متحرک ہو گئی، ایس بی سی اے کے ریکارڈ سے اہم فائلیں غائب ہونے لگی ہیں، ڈائریکٹر جنرل نے زیر التوا کیسز کا ریکارڈ دو روز میں طلب کر لیا ہے۔

غائب ہونے والی فائلوں میں کاغذات کی ہیرا پھیری کا خدشہ ہے، ڈی جی ایس بی سی اے آشکار داور نے فائلیں ڈھونڈنے کے احکامات جاری کر دیے، کوئی فائل غائب ہوئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

ادھر ایس بی سی اے میں اندھیر نگری چوپٹ راج پھیل گیا ہے، ادارے میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا ہے، رشوت خوری اور غیر قانونی نقشے پاس ہو رہے ہیں جس پر اتھارٹی کے افسر اور اتھارٹی فورس کے ایس ایچ او کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی فورس کے ایس ایچ او معین نے ڈی آئی جی ایسٹ کو دھمکیوں کی تحریری درخواست بھی جمع کرا دی، جس میں انھوں نے کہا کہ فون پر ڈائریکٹر ڈیمولیشن علی مہدی نے انھیں دھمکیاں دی ہیں، ایس ایچ او معین کا کہنا ہے کہ انھیں فون پر کام سے روکنے اور اپنا بندوبست کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ڈی جی اتھارٹی کی جانب سے ایس ایچ او کو کسی بھی سائٹ پر سرپرائز وزٹ کرنے اور ڈیمولیشن رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی تھی، ایس ایچ او فورس کی جانب سے کئی غیر قانونی عمارتوں کی نشان دہی اور آپریشن نہ کرنے کی رپورٹ بھی ڈی جی کو دی گئی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ غلط کاموں کی نشان دہی پر ایس ایچ او اور ڈائریکٹر ڈیمولیشن میں جھگڑا شروع ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں