The news is by your side.

Advertisement

لاہور کا مشہور اسٹوڈیو جو "یکے والی” کی کمائی سے بنایا گیا تھا!

1957ء میں یکے والی ایک ایسی فلم ثابت ہوئی جس نے بزنس کا ریکارڈ قائم کیا اور اپنی لاگت سے 45 گنا زیادہ کمائی کی۔ اسی فلم کی کمائی سے باری اسٹوڈیو تعمیر کیا گیا تھا جس کا تذکرہ آج پاکستان کی فلمی صنعت کے سنہرے دنوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ یہ فلم ایم جے رانا نے بنائی تھی۔

ایم جے رانا پاکستان کی فلمی تاریخ کے کام یاب ترین ہدایت کاروں‌ میں سے ایک تھے۔ اردو زبان میں تو انھوں نے صرف پانچ فلمیں‌ ہی بنائی تھیں، لیکن پنجابی زبان میں‌ ان کی کئی فلمیں‌ ان کے فن اور پیشہ ورانہ قابلیت و مہارت کا نمونہ ہیں۔ وہ سماجی موضوعات پر اصلاحی اور سبق آموز فلمیں بنانے کے ماہر تھے۔ ایم جے رانا 1995ء میں‌ انتقال کرگئے تھے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کے اس نام ور ہدایت کار کا اصل نام محمد جمیل تھا۔ ایم جے رانا نے اپنے آخری دور میں اپنی شاہکار فلم یکے والی کا ری میک تانگے والی کی صورت میں بنایا تھا لیکن یہ فلم مایوس کُن ثابت ہوئی۔ مرحوم ہدایت کار نے فلموں کے بعد لاہور اسٹیج کے لیے مشہور ڈرامہ "شرطیہ مٹھے” کی بھی ہدایات دی تھیں اور اسی ڈرامے نے اسٹیج فن کاروں امان اللہ خان، ببو برال، مستانہ اور سہیل احمد کو لازوال شہرت دی تھی۔

ایم جے رانا کے فلمی کیرئر کا آغاز فلم مندری (1949) سے ہوا تھا جس میں وہ فلم ڈائریکٹر داؤد چاند کے معاون تھے۔ اس فلم میں انھوں نے اداکاری بھی کی تھی۔ پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی سپر ہٹ اردو فلم سسی (1954) میں بھی وہ اپنے استاد کے معاون تھے۔ 1955ء کی فلم سوہنی ان کی بطور ہدایتکار پہلی فلم تھی لیکن کام یابی اگلے سال بننے والی فلم ماہی منڈا سے ملی تھی جس میں‌ ٹائٹل رول مسرت نذیر نے ادا کیا تھا۔ ایم جے رانا کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ وہ پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم جی دار کے ڈائریکٹر بھی تھے۔

ایم جے رانا کی فلم جگ بیتی (1968) ایک بامقصد اور اصلاحی فلم تھی جسے بہت پسند کیا تھا اور اسی طرح فلم باؤ جی (1968) میں طبقاتی کشمکش، ذات پات کی تقسیم کو انھوں نے بڑی مہارت سے سلور اسکرین پر پیش کیا تھا۔ ان کی دیگر فلموں میں ماہی منڈا، شیرا، جمالو، باپ کا باپ، من موجی، یار مار، راوی پار، جوانی مستانی، چن ویر، خون دا بدلہ خون، عید دا چن، پیار دی نشانی، ماں دا لال، جانی دشمن اور سرپھرا شامل ہیں۔ 1989ء میں فلم انڈسٹری کے لیے ایم جے رانا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خصوصی نگار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں